حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 16
29 28 خاکسار متینوں کا نام تھا۔خط میں یہ لکھا تھا کہ یہاں کے لوگ اینٹ پتھر بہت پھینکتے ہیں اور روزہ کھولنے لگے۔میں نے عرض کیا کہ حضور منشی جی کو ( منشی اروڑا خان صاحب کو ایک علانیہ گالیاں دیتے رہتے ہیں۔میں بعض دوستوں کو اس ثواب میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔گلاس میں کیا ہوتا ہے۔حضرت مسکرائے اور جھٹ اندر تشریف لے گئے اور ایک بڑا لوٹا اس لئے تینوں صاحب فوراً آجائیں۔ہم تینوں کچہری سے اٹھ کر چلے گئے۔گھر میں بھی شربت کا بھر کر لائے اور منشی جی کو پلایا۔منشی جی یہ سمجھ کر کہ حضرت اقدس کے ہاتھ۔شربت پی رہا ہوں پیتے رہے اور ختم کر دیا۔“ نہیں آئے۔رفقاء ) احمد جلد ۴ صفحه ۱۸۷) اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ( رفقاء) کپورتھلہ سے کس قدر محبت تھی کہ دہلی پہنچ کر انہیں بلا لیا اور یہ فدائی بھی ایسے تھے کہ فوراً کچہری سے دہلی کے لئے روانہ ہو گئے اور جاتے ہوئے اپنے گھروں کو بھی نہیں گئے کیونکہ آقا کا بلاوا آیا اور دیوانہ وار غلام اس کے حضور حاضر ہو گئے۔(( رفقاء) احمد جلد ۴ ص ۲۲۴) منشی صاحب کے سوالوں کا جواب دینا حضرت منشی محمد اروڑا خان صاحب کے بعض سوالات اور ان کے حضرت اقدس کی طرف سے جوابات سلسلہ کے لٹریچر میں ہمیشہ کے لئے ہمارے افادہ کے لئے محفوظ ہو گئے ہیں۔سوال و جواب کے سلسلہ میں بھی محبت کا عنصر غالب ہے۔حضور اقدس کے ہاتھ سے شربت پیتے رہے ملفوظات جلد اول کے صفحہ اول پر حضرت منشی محمد اروڑا خان صاحب کا سوال درج رفقاء مسیح موعود علیہ السلام کی حضرت مسیح موعود اور آپس میں محبت نیز حضرت مسیح موعود ہے۔۱۸۹۱ء میں جالندھر کے مقام پر منشی صاحب نے حضور اقدس سے سوال کیا کہ ایمان کی اپنے جاں نثاروں سے شفقت و محبت کا ایک بہت ہی خوبصورت واقعہ حضرت منشی ظفر کتنی طرح کا ہوتا ہے۔حضور نے لطیف جواب دیتے ہوئے فرمایا: احمد صاحب روایت کرتے ہیں۔ایک مرتبہ میں اور منشی اروڑے خان صاحب اور حضرت خاں صاحب محمد خاں کرے اور بار یک ایمان یہ ہے کہ میرے پیچھے ہوئے۔“ صاحب لدھیانہ حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے۔رمضان کا مہینہ تھا۔میں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور میرے رفقاء نے نہیں رکھا تھا۔جب ہم حضرت کی خدمت میں حاضر ”ایمان دو قسم کا ہوتا ہے۔موٹا اور بار یک۔موٹا ایمان تو یہی ہے کہ دین العجائز پر عمل ( ملفوظات جلد اول ص ) ایک دفعہ منشی محمد اروڑے خان صاحب نے کرتار پور کے اسٹیشن پر حضرت اقدس سے ہوئے تو تھوڑا سا وقت غروب آفتاب میں باقی تھا۔حضرت کو انہوں نے کہا کہ ظفر احمد نے پوچھا کہ معجزہ کسے کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: روزہ رکھا ہوا ہے۔حضور فوراً اندر تشریف لے گئے اور شربت کا ایک گلاس لے کر آئے اور منشی جی ! معجزہ کی ایسی مثال ہے کہ گرمی شدید پڑ رہی ہو۔ایک پیر کے مرید ہوں۔وہ فرمایا روزہ کھول دو۔سفر میں روزہ نہیں چاہئے۔میں نے تعمیل ارشاد کی اور اس کے بعد بوجہ مرید اپنے پیر سے کہیں کہ دعا کرو کہ ٹھنڈی ہوا چل جائے اور پھر اس کے بعد ٹھنڈی ہوا بھی مقیم ہونے کے ہم روزہ رکھنے لگے۔چل پڑے۔اس سے مریدوں کا تو ایمان بڑھتا ہے کہ ہمارے پیر نے دعا کی اور ٹھنڈی ہوا افطاری کے وقت حضرت اقدس خود تین گلاس ایک بڑے تھال میں رکھ کر لائے۔ہم چل گئی مگر مخالف اس پر اعتراض کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہوا کا کام تو چلنا ہی ہے یہ کیا معجزہ