حضرت منشی اروڑے خان صاحب ؓ — Page 15
27 26 کہ فرصت کے وقتوں میں ہمیشہ ملتے رہیں۔باقی تمام احباب کو السلام علیکم۔“ (( رفقاء ) احمد جلد ۴ ص ۲۳۶) رفقاء کپورتھلہ کے لئے حضور علیہ السلام کی محبت اور شفقت کا یہ ایک زریں اور روشن اظہار ہے۔منشی جی ! میں نہیں جاتا حضور کے خاص خاص دوستوں میں شامل حضرت منشی اروڑا خان صاحب کا شمار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چند خاص رفقاء میں ہوتا ہے۔دہلی کے سفر میں حضور نے آپ کو کپورتھلہ سے بلوالیا۔اکثر سفروں میں آپ حضور علیہ السلام کے ساتھ رہے اور کوئی موقع قربت کا جانے نہ دیتے تھے۔حضور علیہ السلام بھی آپ سے محبت اور شفقت کا سلوک فرماتے اور غیر معمولی آپ سے برتا ؤرکھتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے ساتھ جو محبت اور شفقت کا سلوک فرماتے تھے تھے۔( رفقاء) کپورتھلہ کے ساتھ حضور کو ایک خاص تعلق تھا اور یہ ( رفقاء) بھی ایک اس کا ایک بہت ہی محبت بھرا واقعہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اس طرح رقم دوسرے سے بڑھ کر محبت اور وفا کا اظہار اپنے آقا سے رکھتے تھے۔حضرت منشی ظفر احمد فرماتے ہیں: صاحب ایک روایت بیان فرماتے ہیں: ایک موقع پر جس کا محرک میں ہی تھا ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔( بیت ) اقصیٰ میں حضور کا ایک خط آیا۔لفافہ پر ہم تین آدمیوں کا نام لکھا تھا۔منشی اروڑا صاحب کا، جلسہ کا انتظام تھا اور مجمع کثیر تھا۔حضرت اقدس اندر تشریف فرما تھے۔منشی اروڑے خان محمد خان صاحب کا اور میرا۔بات یہ ہوئی تھی کہ حضور کے ہاں کوئی ختنہ یا عقیقہ یا اسی قسم کی صاحب بمشکل حضرت صاحب تک پہنچے تھے۔میں نے عرض کیا کہ حضوڑ باہر لوگ حضور کی کوئی تقریب تھی۔اس کی اطلاع ہمیں نہیں آئی تھی۔اس پر ہم تینوں نے حضور کو لکھا کہ ہمیں زیارت کے لئے بے قرار ہیں منشی جی کو خیال ہوا کہ حضرت صاحب باہر تشریف لے جائیں اس بارے میں اطلاع نہیں ہوئی اور شرف شمولیت نہیں ملا۔اس کا ہمیں صدمہ ہے۔اس پر گے۔میری طرف بھی دیکھا اور حضرت کے دامن کو مضبوطی سے پکڑ لیا جس کا مطلب یہ تھا آپ کا یہ خط آیا کہ واقعی آپ کو صدمہ ہی ہوگا۔میں نے مولوی عبد الکریم صاحب کو کہہ دیا کہ باہر نہیں جانے دیتے۔حضرت اقدس نے منشی صاحب کی اس خواہش کو سمجھ لیا اور انکی تھا کہ بعض خاص خاص دوستوں کو شامل ہونے کے لئے اطلاع دے دو۔انہیں سہو ہو گیا جو طرف مخاطب ہو کر نہایت محبت بھرے الفاظ میں متبسم ہو کر فرمایا: آپ کو اطلاع نہیں دی اور اس کا مجھے بھی قلق ہے۔“ نہیں منشی جی میں نہیں جاتا منشی اروڑے خان صاحب جب خود اس واقعہ کو بیان کرتے تو ان کی آنکھوں سے آنسو ڈبڈبا آتے اور کبھی فخریہ لہجہ میں کہتے کہ حضرت صاحب تو ہم پر اس قدر شفقت دہلی بلوالیا (( رفقاء ) احمد جلد ۴ صفحه ۲۱۸) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکتوبر ۱۸۹۱ ء میں دہلی تشریف لے گئے وہاں فرماتے تھے کہ ہم آپ کو بچوں کی طرح ضد منوانے کے لئے مجبور کرتے تھے اور آپ کبھی پہنچ کر جبکہ مخالفت زوروں پر تھی تو حضرت اقدس نے اپنے بعض فدائیوں کو دہلی آنے کا خط ہماری بات کو ر ڈ ہی نہیں کرتے تھے۔(الحکم ۲۸ مارچ ۱۹۳۴) لکھا۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی بیان کرتے ہیں: دہلی سے حضور نے ایک خط بھیجا۔لفافہ پر محمد خان صاحب ہنشی اروڑ ا صاحب اور