حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 39
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ کیا تقسم کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: بس ! آپ تو بہت تھوڑا پیتے ہیں“ اب وہ کتاب مل جائے گی 39 (ذکر حبیب ص 171 ) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں نے لاہور کی پبلک لائبریری میں ایک کتاب دیکھی جس میں یوز آسف کے نام کے گرجے کا حوالہ دیا گیا تھا۔میں نے حضور علیہ السلام سے اس کا تذکرہ کیا۔حضور نے فرمایا کہ وہ کتاب تو ضرور لانی چاہیئے۔حضور نے مجھے بھیجا، مگر خدا کی شان میں اس کتاب کا نام تو میں بھول گیا۔اس لئے مجھے خالی ہاتھ واپس آنا پڑا۔اس واقعہ کے ٹھیک ایک ہفتہ کے بعد حضور نے فرمایا کہ مفتی صاحب اب جائیے وہ کتاب آپ کو مل جائے گی۔چنانچہ حسب ارشاد میں چلا گیا۔نام تو میں بھول چکا تھا۔لائبریرین کسی حاجت کے لئے باہر گیا ہوا تھا۔اس کی میز پر اتفاقاً ایک کتاب میں نے اُٹھا کر دیکھی تو وہ وہی کتاب تھی جس کے لیے میں گیا تھا۔لائبریرین آیا اس سے میں نے ذکر کیا۔اس نے کہا کہ اگر آپ کچھ دیر پہلے آتے تب بھی آپ کو یہ کتاب نہ ملتی۔کیونکہ یہ با ہرگئی ہوئی تھی اور یہ ابھی آئی ہوئی ہے اگر آپ تھوڑی دیر بعد آتے تب بھی آپ کو نہ ملتی کیونکہ یہ ابھی اپنی جگہ پر رکھ دی جاتی اور جس طرح آپ پہلے خالی واپس چلے گئے اسی طرح اب بھی خالی ہاتھ جانا پڑتا۔حضور کے طفیل سے ہمیں بھی یہ شرف حاصل ہوا کہ ہماری دُعائیں بھی قبول کی جاتی ہیں۔ایک دفعہ جمعہ کا دن تھا۔حضور نے مجھے فرمایا۔آپ جائیے مجھے تو سر میں سخت درد ہو رہی ہے۔میرے دل میں ایک درد پیدا ہوا اور میں نے دُعا کی کہ الہی حضرت علیہ السلام کو جلد شفا ہو جائے۔اتنے میں دیکھا کہ حضرت صاحب بھی تشریف لے آئے ہیں اور فرمایا: 66 و مفتی صاحب آپ چلے آئے تو میری درد بھی اچھی ہو گئی۔“