حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 38
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ تھوڑے کھائے ہیں۔“ رضائی محمود کی ہے اور دھسا میرا (ذکر حبیب ص 326) 38 ایک دفعہ میں لاہور سے حضور کی ملاقات کے لیے آیا اور وہ سردیوں کے دن تھے اور میرے پاس اوڑھنے کیلئے رضائی وغیرہ نہیں تھی۔میں نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں کہلا بھیجا که حضور رات کو سردی لگنے کا اندیشہ ہے۔حضور مہربانی کر کے کوئی کپڑا عنایت فرمائیں۔حضرت صاحب نے ایک ہلکی رضائی اور ایک دھسا ارسال فرمائے اور ساتھ ہی پیغام بھیجا کہ رضائی محمود کی ہے اور دھسا میرا۔آپ ان میں سے جو پسند کریں رکھ لیں اور چاہیں تو دونوں رکھ لیں میں نے رضائی رکھ لی اور دھسا واپس بھیج دیا۔اس خیال سے کہ چادر بہت قیمتی تھی اور نیز اس خیال سے کہ (ذکر حبیب 326,321) ڈلائی صاحبزادہ صاحب کی مستعملہ تھی۔“ وضو کے واسطے پانی لا دیا ایک دفعہ میں وضو کے واسطے پانی کی تلاش میں لوٹا ہاتھ میں لئے اُس دروازے کے اندر گیا جو ( بیت ) مبارک میں سے حضرت صاحب کے اندرونی مکانات کو جاتا ہے تا کہ وہاں حضرت صاحب کے کسی خادم کو لوٹا دے کر پانی اندر سے منگواؤں۔اتفاقاً اندر سے حضرت صاحب تشریف لائے مجھے کھڑا دیکھ کر فرمایا: میں لا دیتا ہوں۔“ اور خود اندر سے پانی ڈال کر لے آئے اور مجھے عطا فرمایا۔“ (ذکر حبیب 326) جب عاجز راقم لاہور سے قادیان آیا کرتا تھا تو حضور مجھے عموماً صبح ہر روز پینے کے واسطے دودھ - بھیجا کرتے تھے۔ایک دفعہ مجھے اندر بلا یا ایک لوٹا دودھ کا بھرا ہوا حضور کے ہاتھ میں تھا۔اُس میں سے ایک بڑے گلاس میں حضور نے دودھ ڈالا اور مجھے دیا اور محبت سے فرمایا۔آپ یہ پی لیں۔پھر میں اور دیتا ہوں۔میں تو اس گلاس کو بھی ختم نہ کر سکا۔ابھی اُس میں دودھ باقی تھا بس کر دی اور واپس