حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 134
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 134 سیکھواں میں تین محترم بھائیوں حضرت جمال الدین صاحب، حضرت امام الدین صاحب اور حضرت خیر الدین صاحب سے ملاقات ہوئی۔ان خوش نصیبوں کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار ہا ذکر فرمایا ہے اور ان کی مالی خدمات کو سراہا ہے۔یہاں ایک صاحب مہر رساون نامی نے بتایا کہ چھ سال ہوئے ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ اُن کی آنکھ کی بینائی ختم ہو جائے گی۔جب سے وہ ہر جمعہ قادیان آکر حضرت اقدس علیہ السلام کا دامن اپنی آنکھوں سے ملتے رہے جس سے آنکھ کی قوت خلاصه بدر 4 تا 11 مارچ 1909ء) باقی رہی۔تلونڈی جھنگلاں میں مدرسہ احمدیہ کی شاخ قائم تھی۔مفتی صاحب نے اپنی رپورٹ میں تحریر کیا: مولوی رحیم بخش صاحب کی محنت اور کوشش اور تبلیغ کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس جگہ کی احمدی جماعت دینی کاموں میں بہت جوش رکھتی ہے۔اس جماعت کے للی جوش کے سبب یہاں پر صدر انجمن نے اپنے مدرسہ کی ایک شاخ قائم کی ہے جس نے تھوڑے عرصے میں اس قدر ترقی کی ہے کہ اب اس میں تقریباً ساٹھ طلباء ہیں۔میں نے اس مدرسہ کا معائنہ کیا لڑکوں کو تمام مضامین میں ہوشیار پایا۔“ ( بدرر 18 مارچ 1909ء) امرتسر میں ڈاکٹر قاضی کرم الہی صاحب سے مل کر آپ بہت خوش ہوئے خوشی کی وجہ بیان فرماتے ہیں: ڈاکٹر صاحب موصوف کو یہ فخر حاصل ہے کہ اُن کے خاندان کی چار پچھتیں حضرت مرزا صاحب مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام کو دیکھنے والی اور آپ کو صدق دل سے قبول کرنے والی ہیں۔یعنی ڈاکٹر صاحب موصوف کے والد ،خود ڈاکٹر صاحب۔ان کے صاحبزادے اور اُن کے پوتے۔ڈاکٹر صاحب کے بیٹوں ، پوتوں ، نواسوں کی ایک