حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 133 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 133

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 133 آپ نے جو تاثرات قلم بند کئے وہ تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔جب بھی ان علاقوں کی تاریخ لکھی جائے گی ان تاثرات کو نظر انداز نہ کیا جا سکے گا۔آپ اپنے دوروں کی رپورٹیں اخبار بدر کو بھیجتے جو ساتھ کے ساتھ شائع ہوتیں۔اس طرح احباب جماعت میں آپس میں ایک دوسرے سے تعارف و محبت میں اضافہ ہوتا۔مثال کے طور پر چند واقعات درج کئے جاتے ہیں: لودھی منگل میں آپ کی ملاقات ایک بزرگ مولوی نور احمد صاحب سے ہوئی۔اُن کے پاس حضرت اقدس علیہ السلام کا دستِ مبارک سے تحریر کیا ہوا 6 ستمبر 1872ء کا ایک مکتوب تھا۔یہ فارسی منظوم خط کے جواب میں فارسی نظم کی صورت میں لکھا گیا تھا۔کل ننانوے اشعار ہیں۔آپ نے نظم نقل کروالی اور بدر 29 اپریل 1909ء کے پرچے میں شائع کی۔یہ نظم اسی حوالے سے فارسی ڈریشمین میں شامل ہے۔یہ ایک بیش بہا خزانہ ہے جو حضرت مفتی صاحب کے ہاتھ لگا۔سپاس آں خداوند یکتائے را بمہر پہر و بیمه عالم آرائے را لحظه امید یاری از وست بہر حالتے دوستداری از وست پس منظر اس نظم کا یہ ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے لودھی نگل کے مولوی اللہ دتا صاحب کو اپنے صاحبزادگان کی تعلیم کے لئے قادیان بلوایا تھا مگر وہ زیادہ دیر یہاں نہ رہ سکے اور واپس لودھی منگل چلے گئے۔ایام اقامت قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بعض مسائل پر مذاکرہ علمیہ یا مباحثہ جو کچھ بھی کہا جائے ہوتا رہا۔قادیان سے واپس جا کر مولوی صاحب نے حضرت اقدس علیہ السلام کو ایک منظوم فارسی خط لکھا جس کے جواب میں آپ نے منظوم جواب بھیجا۔یہ نظم عشق محمد مصطفی سلیم ایام سے لبریز ہے۔اس نظم سے آپ علیہ سلام کی احیائے دین کی تڑپ ،علمائے زمان کی حالت، اولاد کی تعلیم کی اہمیت غرضیکہ کئی اہم امور کا علم ہوتا ہے۔(حیات احمدص 254)