حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 98
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 98 کے متعلق میں دریافت کر لیا کرتا تھا کہ اس کا جواب کیا دیا جائے جن خطوط میں مسائل دریافت کئے ہوتے تھے اُن کے جواب بعض دفعہ خود لکھ دیا کرتے تھے لیکن اکثر یہ فرماتے تھے کہ مولوی صاحب سے پوچھ لیں (مولوی صاحب سے مراد حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب ہوتی تھی ) عموماً اکثر دوست اپنے نومولود بچوں کے نام تبر کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کرتے تھے اور میں حضرت صاحب سے پو چھ کر نام لکھ دیا کرتا تھا لیکن کچھ عرصے بعد حضور نے مجھے فرمایا: مفتی صاحب آپ کو اجازت ہے کہ آپ ہماری طرف سے بچوں کے نام رکھ دیا کریں۔“ عموماً حضرت صاحب ڈاک کسی خادم کے ہاتھ میرے پاس بھیج دیا کرتے تھے مگر بعض دفعہ خود ہی اپنے ہاتھ میں ڈاک لئے ہوئے نماز ظہر کے واسطے باہر تشریف لاتے تو جو کھڑ کی حضور کے کمروں سے بیت مبارک میں کھلتی ہے۔اس سے نکلتے ہی مجھے آواز دیتے کہ: یہ ڈاک ہے۔۔۔۔مفتی صاحب کہاں ہیں۔اس کی وجہ تھی کہ حضور علیہ السلام مجھے روزانہ ڈاک دیتے اور اس کے متعلق ہدایات فرماتے۔اس طرح سب سے اوّل مجھے حضور علیہ السلام سے باتیں کرنے کا موقع ملتا۔ان ایام میں عموماً اوسط ڈاک ہیں خط روزانہ ہوتے تھے لیکن جن ایام میں کوئی پیشگوئی پوری ہوتی یا نشان ظاہر ہوتا تو ان دنوں میں خطوط کی تعداد بہت بڑھ جاتی تھی۔ڈاک کے کام کے واسطے حضور نے میرے ساتھ مکرمی حضرت پیر افتخار احمد صاحب کو مقرر کیا ہوا تھا۔بعض خط میں انہیں جواب لکھنے کے لئے دے دیتا تھا وہ لکھ کر میرے دستخط کرالیتے تھے بعض دوست جو اس امر کے بہت ہی مشتاق ہوتے تھے کہ حضور علیہ السلام کے دستخط مبارک کا خط انہیں ملے انہیں اگر حضرت صاحب به سبب کم فرصتی خود خط نہ لکھ سکتے تو میں لکھ کر حضور سے دستخط کرالیتا تا کہ ان کے واسطے کچھ تشفی اور خوشی کا موجب