حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 51
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 51 لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو غیرت بخشی تھی اُس نے آپ میں وہ طاقت بھر دی اور ایسا جوش پیدا کیا کہ آپ نے اُسی وقت قلم پکڑا اور ”زندہ رسول“ کے موضوع پر ایک لاجواب اور مسکت مضمون تحریر فرمایا۔جس میں آپ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا ناقابل تردید دلائل سے ثبوت دینے کے بعد بتایا کہ زندہ نبی تنہا ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کی تاثیرات و برکات کا ایک زندہ سلسلہ قیامت تک جاری ہے اور اس کا ایک نمونہ میں ہوں کہ کوئی قوم اس بات میں میرا مقابلہ نہیں کر سکتی۔خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا میں اس بات کا ثبوت دوں کہ زندہ کتاب قرآن اور زندہ دین اسلام ہے اور زندہ رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔“ ڈیڑھ دو گھنٹہ میں روح القدس کی تائید سے لکھا ہوا یہ مضمون راتوں رات چھپا۔پھر حضرت مفتی صاحب چار بجے یہ مضمون لے کر لاہور روانہ ہوئے۔یہ جلسہ رنگ محل ہائی سکول میں منقعد ہوا۔جلسہ میں بشپ موصوف نے زندہ رسول“ کے عنوان پر تقریر کے بعد سوالات کے لئے وقت دیا۔مفتی صاحب نے مضمون پڑھ کر سنایا اس وقت تین ہزار کا مجمع تھا۔پر شوکت مضمون سن کر لاہور ایک بار پھر دین حق کی فتح کے نعروں سے گونج اُٹھا۔خوشی کی بات یہ بھی تھی کہ حضرت اقدس علیہ السلام کے مضمون میں جو روح القدس کی تائید سے لکھا گیا تھا پادری صاحب کے ہر اعتراض کا جواب موجود تھا۔بشپ صاحب ایسی زبر دست شکست کھا کر انگشت بدنداں ہو گئے اور چپ سادھ لی۔کہا تو یہ کہ: معلوم ہوتا ہے تم مرزائی ہو ہم تم سے گفتگو نہیں کرتے ہمارے مخاطب عام مسلمان ہیں۔“ وہ لوگ جو وعظ سن رہے تھے باہر آ کر کہنے لگے مرزائی اگر چہ کافر ہیں مگر آج اسلام کی عزت انہی نے رکھ دکھائی ہے۔( خلاصہ الحکم 31 مئی 1900ء تاریخ احمدیت جلدص 90 تا 92 ملفوظات جلد پنجم ص 1397ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)