حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 50
حضرت مفتی محمد صادق عنی اللہ تعالیٰ عنہ 50 نیک نہیں سوائے باپ کے جو آسمان پر ہے۔وہ خود کو معصومیت کے مقام پر کھڑا نہیں کرتے تھے جبکہ ہمارے پیارے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خدا تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ واللہ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس ، آپ کی تقریر سے عیسائی پادری مبہوت رہ گیا اور مسلمانوں کے دلوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ خوب اسلام کا بول بالا کیا۔کئی دن تک اس کا عام چر چار ہا کہ مرزائی جیت گیا۔“ جب حضرت اقدس علیہ السلام کو بشپ صاحب کے اس لیکچر کا علم ہوا تو حضور نے ایک اشتہار شائع فرما یا جس میں معصوم نبی کے موضوع پر بحث کرنے کے لئے بلایا اور لکھا کہ کسی نبی کو معصوم ثابت کرنا کوئی عمدہ نتیجہ نہیں پیدا کر سکتا کیونکہ نیکی کی تعریف میں کئی مذاہب کا آپس میں اختلاف ہے۔مثلاً بعض مذاہب شراب پینا حرام کہتے ہیں بعض جائز بلکہ ضروری سمجھتے ہیں۔پس عمدہ طریقہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاعلمی و عملی اور تقدیسی اور برکاتی اور ایمانی اور عرفانی اور افاضہ خیر اور طریق معاشرت وغیرہ وجوہ فضائل میں باہم موازنہ اور مقابلہ کیا جائے یعنی یہ دکھلایا جائے کہ ان تمام امور میں کس کی فضیلت اور فوقیت ثابت ہے اور کس کی ثابت نہیں وغیرہ۔یہ اشتہار کثرت سے شائع کیا گیا اور بشپ صاحب مذکور کو بھی انگریزی میں ترجمہ کروا کے بھیجا گیا۔بشپ صاحب نے اپنی خفت مٹانے کے لئے یہ اشتہار دیا کہ وہ 25 مئی کو زندہ رسول“ کے موضوع پر پھر لیکچر دیں گے۔حسب سابق مسلمانوں کو مقابلہ پر آنے کی دعوت دی۔مسلمانوں میں بڑا جوش پھیلا مولوی ثناء اللہ کو جواب دینے کے لئے کہا گیا مگر انہوں نے مسلمانوں کو جلسہ سے باز رکھنے کی کوشش کی۔اس پر سب کی نظریں مرزائیوں کی طرف اُٹھیں کہ اسلام اور عیسائیت کی جنگ میں مرزائی ہی جواب دے سکتے ہیں۔24 مئی کو نماز ظہر کے بعد مفتی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں سب واقعات پیش کئے۔جلسے میں چوبیس گھنٹے باقی تھے۔آپ کی طبیعت بھی کچھ کمزور تھی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ،عظمت اور جلال کے