حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 52
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 52 پادری صاحب کی ہزیمت پر متعدد انگریزی اخبارات مثلاً پاؤ نیر،انڈین سپیکٹیٹر اور انڈین ڈیلی ٹیلی گراف وغیرہ نے تبصروں میں حیرت کا اظہار کیا۔(حیات طیبہ ایڈیشن دوم صفحہ 210) عبرانی زبان کی تعلیم 1895ء حضرت اقدس علیہ السلام کے زمانے میں قرآن پاک پر ایک اعتراض یہ بھی ہوا کہ پہلی کتب مقدسہ جن قوموں کے واسطے نازل ہوئی تھیں انہیں کی زبان میں ہوئی تھیں قرآن کریم کا دعوی ہے کہ وہ ساری دنیا کے لئے ہے تو پھر اس کے زبان عربی میں ہونے کی کیا وجہ ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اس کے جواب میں ایک کتاب ” من الرحمان تصنیف فرمائی جس میں یہ ثابت فرمایا کہ عربی ام الالسنہ ہے اس لئے اس زبان میں ساری دنیا کے لئے آخری شریعت نازل ہوئی اس مقصد کے لئے ہر زبان کے الفاظ سے ثابت کرنا مقصود تھا کہ وہ عربی سے نکلے ہیں۔یہ ایک مشکل کام تھا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے انتہائی بے قراری عاجزی اور تضرع سے مدد مانگی۔اللہ تبارک تعالیٰ نے ایک آیت کی طرف اشارہ فرمایا: اگر تو چاہتا ہے کہ آیت موصوفہ اور اس کے حملے سے نجات ہو تو قرآن کے اس مقام کو پڑھ جہاں یہ لکھا ہے کہ لتنذر ام القری ومن حولها جس کے یہ معنی ہیں کہ ہم نے قرآن کو عربی زبان میں بھیجا تا تو اس شہر کو ڈراوے جو تمام آبادیوں کی ماں ہے اور ان آبادیوں کو جو ان کے گرد ہیں یعنی تمام دنیا کو اور اس میں قرآن کی مدح اور عربی کی مدح ہے۔پس عقلمندوں کی طرح اس پر تدبر کر اور غافلوں کی طرح ان پر سے مت گزر اور جان کہ یہ آیت قرآن اور عربی اور مکہ کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے اور اس میں ایک نور ہے جس نے دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور لاجواب کر دیا۔پس تمام آیت کو پڑھ اور اس کے نظام کی طرف دیکھ اور دانشمندوں کی طرح تحقیق کر اور میں نے ان آیتوں میں تدبر کیا پس کئی بھیدان میں پائے پھر گہری غور کی تو کئی نوران میں پائے پھر ایک بہت ہی