حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 220
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 220 قلب پر ہے۔مگر شکر ہے کہ سفر کسی ذاتی غرض کے لئے نہیں بلکہ دین کے واسطے ہے۔عزیز و اقرباء کے فراق کا احساس ایک طبعی امر ہے، میرے اختیار میں نہیں لیکن اگر حضرت امام کا حکم مجھے اس ملک میں زیادہ رہنے کا ہو یا یہاں سے جنوبی امریکہ یا جاپان چلا جانے کا حکم آجاوے تو میرا قلب اس حکم کو ماننے کے واسطے ایسا ہی تیار ہے جیسا کہ قادیان کے واسطے مرشد صادق کی اطاعت میں میرے لئے وطن اور غربت ایک ہے۔سفر اور حضر برابر۔میرا یہ دعویٰ نہیں کہ میں نے اس سفر میں کوئی کام کیا ہے یا زیادہ ٹھہروں گا تو کچھ اور قابل تعریف کام کروں گا ہر گز نہیں۔کام کرنے والا اللہ پاک خود ہے اور اگر کچھ ہوا تو محض حضرت مرشد ایدہ اللہ اور محبین صادق کی دُعاؤں کا نتیجہ ہے اور انہیں کے لئے اس کا اجر ہے۔“ آپ امریکہ میں انجمن احمدیہ کو رجسٹرڈ کرانے میں کامیاب ہو گئے جس کے نتیجہ میں البیت اور مشن ہاؤسر ٹیکس سے مستثنیٰ ہو گئے۔الفضل 25 جنوری 1923 ء ص 2,1) ( الفضل 18 جون 1923 ء ) مولا نا محمد دین صاحب کی تشریف آوری کے بعد آپ کی واپسی کا پروگرام قادیان سے سفر خرچ موصول ہونے سے منسلک تھا۔دعوت الی اللہ کے سب سلسلے جاری رہے۔بلکہ دورانِ سفر بھی جہاں مخلوق خدانظر آتی پیغام حق پہنچانے کا فریضہ جاری رکھتے۔شکاگو سے آشلینڈ Ashland تشریف لائے تو ان کی مساعی کو دیکھتے ہوئے مقامی اخبار Ashland Daily Independent نے لکھا: ان دنوں شہر آئلینڈ میں جس شخص کا ذکر ہر جگہ دلچسپی سے ہو رہا ہے وہ مشرق کے معزز عالم اور فاضل ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب ہیں جوسبز پگڑی پہنتے ہیں۔فصیح تقاریر سے ہمارے شہر کے عیسائیوں کو دین محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت دے رہے ہیں۔کبھی ہم مسیحی مشنری ملک عرب بھیجتے تھے آج نبی عربی کے مشنری یہاں پہنچ رہے ہیں۔“ ( الفضل 4 ستمبر 1923ء)