حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 185
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ میں تبدیل ہوئے۔مگر کسی کی صحبت نے مجھے تبدیل نہیں کیا۔مجھے اب بھی قادیان کی زندگی ویسی ہی پیاری ہے جیسی ہمیشہ تھی۔گو حضرت خلیفہ اسیح کے حکم کے بعد میں اپنی کوئی مرضی نہیں رکھتا۔میرے دل میں مطلقاً کوئی خواہش نہیں کہ میں قادیان واپس بلایا جاؤں یا یہاں رکھا جاؤں یا افریقہ یا امریکہ بھیجا جاؤں۔میں نے اپنے قلب سے تمام خواہشوں کو باہر نکال دیا اور اپنے دل کے خانے کو صاف کر دیا ہے تا کہ اس میں سوائے حضرت مرشد صادق بادی دین فضل عمر نصرہ اللہ کے حکم اور خواہش کے اور کوئی شے اس کے اندر داخل نہ ہو میرا نقل و حرکت اب میرا نہیں بلکہ محمود کا ہے وہ جو چاہے اس کے ساتھ کرے اور جدھر چاہے بھیج دے۔حکم محمود کے بعد مجھے نہ کسی سمندر کا ڈر ہے نہ کسی جنگل کا خوف، نہ وطن کی خواہش نہ سیر کا شوق ہے۔یہ خدا کا فضل ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس ملک میں بھی لوگوں نے میری بہت عزت کی اور بہت سے میرے محب پیدا ہو گئے۔دو کالجوں کا میں فیل منتخب ہو چکا ہوں علوم السنہ کی بیچلر کی ڈگری حاصل ہوئی ہے۔دو معز ز سوسائٹیوں کی ممبری اور ایسوسی ایٹ حاصل ہوئی ہے۔“ (الفضل 5 جنوری 1920ء ص 9) 185 اڑھائی سال تک لندن میں اعلائے کلمہ حق کا حق ادا کرنے والے اس مقبول داعی الی اللہ کو جماعت احمد یہ لندن نے 20 جنوری 1920ء کو الوداعی پارٹی دی جس میں شاندار ایڈریس پیش کیا اور متضرعانہ دُعاؤں سے رخصت کیا۔