حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 179
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ لندن میں عید الفطر 179 اس سال عید الفطر کا اخباروں میں اعلان کروایا گیا تھا۔اس لئے بہت سے غیر از جماعت بھی بیت احمد یہ میں نماز پڑھنے آئے۔ہر دن نئے افق نئے اُجالے لے کر آتا۔نئے پھل طمانیت کا سامان بنتے۔ستمبر 1918ء کو آپ نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو ایک مکتوب لکھا جس میں اپنے جذبات کا اظہار کیا: ہم کیا اور ہماری ہستی کیا اور ہمارا کام کیا اور ہماری سعی کیا سب بیچ ہیں اور سب بیکار ہے بغیر اس قدوس سبوح ، اعلیٰ عظیم کے فضل بخشش ، رحم، کرم پردہ پوشی اور غریب نوازی کے۔اُسی کی سب طاقتیں ہیں اور اُس کے سب خزانے ہیں۔ہر ھے اُس کے قبضہ قدرت میں ہے۔وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اُس کے حضور میں جواب دہ ہیں اور کوئی اُس سے پوچھنے والا نہیں۔اندھی عیسائیت اور سرکش دہریت کی اس سنگلاخ سرزمین میں کون ہدایت پاسکتا ہے کوئی نہیں سوائے اُس کے جس کو وہ ہدایت دے۔ہماری کوششیں کمزور بلکہ کمزور کا لفظ بھی اُس کے واسطے کمزور ہے۔“ الفضل 12 اکتوبر 1918ء ص 10) یہ عاجزانہ راہیں اور متضرعانہ دُعائیں آپ کا زادِ راہ تھیں۔خدا تعالیٰ کی رحمت کے جلوے دیکھئے امریکہ کی آزادی کا دن 4 جولائی کو لندن میں منایا جارہا تھا، چوٹی کے افسران مدعو تھے ، آپ بھی جلسہ دیکھنے پہنچ گئے۔اس بات سے ناواقف کہ داخلہ کے لئے ٹکٹ کی بندش تھی۔گیٹ پر ٹکٹ طلب کیا گیا آپ کے پاس تو کوئی ٹکٹ نہ تھا گیٹ کیپر نے کہا آپ کی پگڑی ہی آپ کا ٹکٹ ہے اور اندر جانے دیا۔اندر گئے تو ہر نشست پر نام لکھا تھا۔کہاں بیٹھتے آپ کے نام کی تو کوئی کرسی نہ تھی۔ایک ناظم نے کہا سٹیج پر ایک کرسی خالی ہے آپ وہاں تشریف رکھیں۔سٹیج پر بیٹھ کر مسٹر چرچل اور دوسرے لیڈروں کی تقاریر سنیں۔یہاں پر بھی روابط پیدا کئے اور ایڈریس لے کر تبلیغی خط و