حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 177
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ نام مکتوب لکھا: اگر چہ میری توجہ زیادہ تر اس طرف ہے کہ یورپ کیوں کر مسلمان ہو جائے تا ہم میرے اوقات کا ایک بڑا حصہ اپنے محبین کے خیال میں اور اُن کے واسطے دُعاؤں اور توجہ میں گزرتا ہے۔بسا اوقات لندن کی بیرونی سیر گاہوں کے جنگل ہوتے ہیں جو کئی میل میں پھیلے ہیں اور میں ہوتا ہوں جو تنہائی اور خاموشی میں پیاروں کی یاد میں آنسو بہاتا الفضل 9 اگست 1917 ء ) ہوں۔ایک ریلوے اسٹیشن پر 177 ایک پادری صاحب سے ملاقات ہوئی دلچسپ مکالمہ ہوا۔محترم قاضی محمدعبداللہ صاحب بھی آپ کے ساتھ تھے۔پہلے تو تعارف پر ہی دونوں کے نام کے ساتھ محمد لفظ سے ہی وہ چونکے اور کہا کہ نجات مسیح کے ساتھ ہے جو پھانسی چڑھ گئے۔حضرت مفتی صاحب نے سمجھایا کہ جو خود اپنی ذات کو ظلم سے نجات نہ دے سکے وہ دوسروں کا کیا بھلا کر سکتے ہیں۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی ذات کا بھی بھلا کیا اور خود سے بڑھ کر دوسروں کا بھلا کیا۔مسیح تو ایک عاجز انسان تھے جو ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوئے وہ خدا کیسے ہو سکتے ہیں۔پادری صاحب نے گاڑی نکل جانے کے بہانے سے گفتگو ختم کرنے کی کوشش کی مگر اسٹیشن کچھ اس طرح بنا ہوا تھا کہ گھوم پھر کر وہیں آگئے۔آپ نے پھر بات نکالی کہ حضرت یسوع نے آپ کی مدد نہ کی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کریں۔خلاصه از الفضل 3 /نومبر 1917 ءص2) 2 اکتوبرکو پروفیسر مارگولیتھ کی دعوت پر آپ آکسفورڈ گئے۔کتب خانے اور کالج دیکھا جب بھی آپ کو کوئی گر جا نظر آتا کلمہ شہادت پڑھ کر دعا کرتے کہ اللہ تعالیٰ کے نام کا بول بالا ہو۔الفضل 6 نومبر 1917ء ص 6) یہاں دو پھل بھی ملے۔ایک مسٹر ولیم ہل جو شاہی بحری بیڑے میں ملازم تھے ان کا نام ولید