حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 170 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 170

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 170 تو کیسے مانتے ہیں کہ ہندوستان فی الواقع ہے۔اُس نے کہا کہ میں نے نہیں دیکھا مگر ایسے ہزارہا آدمی موجود ہیں جنہوں نے دیکھا ہے۔حضرت مفتی صاحب نے اسی بات سے بات آگے بڑھائی کہ اگر آپ ہزار ہا آدمیوں کی شہادت سے بات مان جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے وجود پر تو ہزاروں لاکھوں گواہ ہیں۔آپ اُن کی بات مان جائیں۔اُس دہریہ نے کہا مگر مجھے تو کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو کہتا ہو کہ اُس نے خدا تعالیٰ کو دیکھا ہے۔آپ نے بڑے جلال سے جواب دیا: ”دیکھو اور غور سے دیکھو! یہ جو تمہارے سامنے کھڑا ہے اور بول رہا ہے اس نے خدا کو دیکھا ہے۔سنو! میں جہاز سارڈینیا پر آرہا تھا۔ہمارا جہاز بحیرہ روم میں پہنچا سب لوگ خوفزدہ تھے کہ بحیرہ روم میں آب دوز کشتیاں بہت ہیں جو جہازوں کو غرق کر رہی ہیں اور جان کا سخت خطرہ ہے۔ہر شخص لائف بیلٹ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا اس وقت مجھے دکھایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اس جہاز کی حفاظت کر رہا ہے اور مجھے تشفی دی گئی کہ یہ جہاز صحیح سلامت کنارے پر پہنچے گا تب میں نے جہاز میں بہت لوگوں کو جن میں بعض پادری بھی تھے اور جن کو میں دعوت الی اللہ دے رہا تھا یہ خوشخبری دی اور جہاز کے چلانے والوں کو بھی بتلایا۔اُن میں سے کئی لوگ اب بھی انگلینڈ میں موجود ہیں جا کر اُن سے پوچھ لو۔کیا یہ ہستی باری تعالیٰ کا ثبوت نہیں؟ کیا انسان اپنے قیاس سے ایسا کر سکتا ہے؟“ (خلاصہ از الفضل 30 جون 1917ء ص 7) 29 جون 1917ء کو آپ نے الفضل کو اپنی ایک رپورٹ لکھ کر بھیجی جس میں دعوت الی اللہ کے دو دلچسپ واقعات ہیں۔تحریر فرمایا: اتفاقا راستہ میں ایک لیڈی سے ملاقات ہوئی جو کبھی ہندوستان میں رہ چکی ہے۔وہ میرا ایڈریس لے گئی تھی۔خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا۔میں نے کچھ رسالے روانہ کئے۔گزشتہ اتوار کو اس نے مجھے اپنے مکان پر بلایا۔قریب تین گھنٹے گفتگو رہی۔آخر اس نے اقرار کیا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔جیسا کہ