حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 143
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ دمے کاشی کے بسنے والو! 143 تم نے کرشن مہاراج کے قصے سنے۔تمہارے دل میں بسا اوقات یہ آرزو پیدا ہوئی ہوگی اور یہ خواہش گدگدی کرتی ہوگی کہ کاش ہم بھی کرشن مہاراج کے وقت میں ہوتے۔تو ان کا ساتھ دیتے۔اے کاشی کے بسنے والو! اس کر پالو، دیالو ایک خدا کے آگے شکریہ میں اپنا سرزمین پر رکھ دو کہ اُس نے تمہیں میں سے تمہارے ملک میں پھر رڈ ز گوپال پیدا کر دیا ہے۔مبارک ہیں وہ جنہوں نے اس آواز کو سنا اور اس کا ساتھ دیا کیونکہ وہ اس زمانے کا نور ہے اور وہی نجات کا دروازہ ہے کوئی خدا کی رضا حاصل نہ کر سکے گا جب تک کہ اس دروازے سے داخل نہ ہو۔۔۔۔۔ایک شخص اس زمانے میں اس واسطے اُٹھا ہے کہ تمام ادیان پر دین حق کو غالب کر کے دکھا دیوے۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو دنیا پر قائم کرنے کے واسطے آ گیا ہے۔۔۔۔۔ہاں اے پیارے بھارت نواسیو! میں تبلیغ کا حق تم پر ادا کر چکا۔خدا کی بات تم تک پہنچا چکا۔خدا کے فرستادہ کا پیغام تمہارے شہر میں کھڑا ہو کر سنا چکا اب قبول کرو تو خدا غفور رحیم ہے اور اگر نہ کرو تو غنی عن العالمین تقریر کے بعد 9 ( نو ) احباب سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔(خلاصہ بدر 8 جون 1911ء) اس لیکچر سے پہلے حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب کو کشف ہوا کہ آسمان سے بارش کی طرح انوار اتر رہے ہیں اور بشارت معلوم ہوئی: کامیابی ، کامیابی ، کامیابی۔حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل نے فرمایا: