حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 142
حضرت مفتی محمد صادق عنی اللہ تعالیٰ عنہ 142 ثبوت پیش کرتے ہوئے سورۃ کوثر کی بڑی عمدہ و لطیف تفسیر کی جو سامعین کو محو حیرت بنا گئی۔اخبار بدر 22 دسمبر 1910ء ص 9-10) حضرت مفتی صاحب نے اس سفر کی روداد کا خلاصہ نکالا: اس دورے میں ہم نے دو ہزار سے کچھ زائد میل طے کئے۔کل اٹھارہ دن خرچ ہوئے۔دس جگہ قیام کیا۔اکیس لیکچر ہوئے۔تین ہندو نو مسلم ہوئے۔چودہ کس نے بیعت کے خطوط لکھے۔اخیر میں پھر ضروری ہے کہ میں اللہ تعالی کا شکریہ کروں کہ اس کے محض فضل اور رحمت سے اس سفر میں ہم یہ بہت سے برکات نازل ہوئے علاوہ اس کے ایک تعدا د سلسلہ حقہ میں شامل ہوئی۔اور انہوں نے بیعت کے خط لکھ دیئے ہیں۔ایک بڑی جماعت کے دل سے شبہات دور ہوئے اللہ تعالی نے خلیفہ اسیح کی دُعا ئیں خدام کے حق میں قبول کیں۔“ ( بدر 5 جنوری 1911ء) 27 نومبر کو قادیان وا پسی ہوئی۔جماعت احمدیہ بنارس کے جلسہ میں شرکت 25 را پریل 1911ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے ارشاد پر بنارس، مونگھیر ، شاہ آباد ، شاہجہان پور، گوجرانوالہ اور بھیرہ کا دورہ کیا اس سفر کے وفد میں حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب اور حضرت حافظ روشن علی صاحب بھی شامل تھے۔حضور نے روانگی کے وقت نصیحت فرمائی: در علم پر گھمنڈ نہ کر وصرف خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کرو۔میں اس معاملہ میں 66 بہت تجربہ کار ہوں صرف اس کا فضل ہے جو کام آتا ہے۔( بدر 8 جون 1911 ء) بنارس کے ٹاؤن ہال میں بہت بڑے جلسے میں حضرت مفتی صاحب نے بنارس اور کاشی کی تاریخی اہمیت بیان کی اور انہیں پیغام حق دیا۔توحید کی طرف بلاتے ہوئے آپ کا انداز دلی جذب و کیفیت میں ڈوب کر اُبھرتا۔جلالی انداز میں آپ نے طویل تقریر کی۔آخر میں مسیح محمدی کی آمد کا پیغام دیا