حضرت مرزا ناصر احمد — Page 83
69 نے مجھ سے واضح طور پر کہا کہ اس رشتہ کو قبول کرنا بہت بڑی ذمہ داری کی بات ہے اس لئے تم اس بات کی بالکل پرواہ نہ کرنا کہ ہماری کیا رائے ہے اور پوری آزادی سے اپنا فیصلہ کرو۔چنانچہ میں واضح اور بر ملا طور پر اس بات کا اظہا نہ کروں کی کہ حضور شادی کا فیصلہ میں نے مکمل طور پر اپنی مرضی سے کیا۔حضور اس معاملہ میں بہت حساس تھے۔شادی کے بعد شروع میں کئی بار مجھ سے پوچھا۔تم اپنے فیصلے پر چھپتا تو نہیں رہی ہے چونکہ حضور نے اس معاملہ - میں پوری شرعی احتیاط بہتی تھی اور یہ شادی محض اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی رضا کے لئے کی تھی اس لئے جب کبھی حضور کو محسوس ہوتا کہ کسی نے عمر کے تفاوت کی وجہ سے معترضانہ رنگ میں بات کی ہے تو آپ کو بہت تکلیف ہوتی۔اور میرا اس تفصیل کے بیان سے یہی مقصد ہے کہ تا آنے والے وقت میں ہمیشہ کے لئے یہ بات واضح ہو جائے کہ یہ شادی حضور نے کلیتہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور رضا سے کی اور میں نے اس رشتہ کو بغیر کسی دباؤ کے شائبہ کے اپنی خوشی کے ساتھ قبول کیا۔مناسب ہوگا کہ میں حضور کا پیغام اور وہ جواب جوئیں نے اپنے والد کو سکھا یہاں نقل کر دوں۔حضور کا پیغام یہ تھا : - مکرم و محترم عبدالمجید خان صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ذاتی حیثیت میں اپنے رب کریم کا یہ عاجز بندہ بقیہ زندگی بغیر