حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 82 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 82

۷۸ ہوگا اس کے متعلق ان سے استفسار فرمایا۔حضور نے فرمایا کہ آپ کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہم روزہ کے لئے استخارہ کر نے کا ہے اور پھر اگر اللہ تعالیٰ نے اس رشتہ کی اجازت دے دی تو آپ باقاعدہ پیغام بھجوائیں گے۔حضور نے فرمایا کہ اس دوران دیعنی ائن۔ہم دنوں میں) میں بھی دعائیں کروں اور اس غرض کے لئے ہوسٹل سے گھر آجاؤں۔چنانچہ میں ۲۲ فروری کو ربوہ آگئی۔حضور نے میرے بھائی سے فرمایا کہ تم میرے نمائندہ ہو گے اور میں اور تم ایک فریق ہوں گے۔اور طاہرہ اور اس کی امی اور ابا دوسرا فریق ہوں گے۔وہ اپریل کو ۴۰ روزہ استخارہ کی مدت ختم ہوئی تو پوری طرح سے شرح صدر ہونے کے بعد اسی روتہ مغرب کی نماز کے بعد آپ نے شادی کا پیغام تحریر فرمایا۔اور اسے بھجواتے ہوئے یہ تاکید فرمائی کہ رات بارہ بجے کے بعد یعنی 4 اپریل کو ایسے کھولیں۔میں ایک بات یہاں اچھی طرح سے واضح کرنا چاہتی ہوں اور اسحا کی وضاحت کے لئے یہ تفصیل لکھ رہی ہوں اور وہ یہ کہ حضور کی یہ خواہش تھی کہ میں یہ فیصلہ قطعاً کسی قسم کے دباؤ کے بغیر کروں۔یہی وجہ تھی کہ حضور نے جب ہم روزہ دعاؤں کے دوران مجھے بھی دعا کرنے کے لئے کہا تو اس میں دعا کر نے کے علاوہ یہ حکمت بھی تھی که اس عرصے کے دوران یک آزادی سے اس معاملہ کے بارہ میں ذاتی طور پر سوچ بھی ہوں۔کیونکہ اس وقت تک میرے والدین کو بھی اس تجونیہ کا علم نہ تھا۔اور صرف میرے بھائی کے ذریعے مجھے آپ کے منشاء کا علم ہوا۔میرے والدین نے بھی تجھے اس بات کی مکمل آزادی دی کہ میں یہ فیصلہ اپنی مرضی سے کروں چنانچہ میری والدہ