حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 89 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 89

۸۵ پردے کی آپ انتہائی احتیاط برتے تھے۔ایک انگریز خاتون نے ہماری شادی کی مبارکباد کے خط میں لکھا کہ مجھے تین وجوہات کی بناء پر اس شادی کی بہت خوشی ہے۔اور ایک وجہ یہ کبھی کہ وہ نوجوان ہیں اندر ہمارے مسائل کو سمجھ سکیں گی۔اس پر آپ نے تبصرہ فرمایا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ تم شاید پر د سے میں ان کے لئے ڈھیل کر وا دوگی۔(اور یہ بات آپ کو پسند نہ آئی۔آپ ہر طرح کے پردے کا بہت خیال رکھتے۔مجھ سے فرما یا کہ میرے گھر کے مردوں سے تمہارا ویسے پردہ تو نہیں ہو گا لیکن گھونگھٹ کا پردہ ہوگا۔اور پھر ایک روز بڑے پیار سے میرا ددیہ ماتھے سے ذرا آگے تک لاتے ہوئے فرمایا۔یوں دوپٹہ لیا کرد۔میرے گھر کے مرد کیا کہیں گے حضرت صاحب کی ہوی دوپیہ بھی اچھی طرح نہیں لیتیں " میں نے بے اختیار کہدیا۔اب آپ مجھے بالکل ہی مائی تو نہ بنا دیں " میرا یہ جواب سن کر آپ خاموشی سے مجھے دیکھتے رہے۔ایک روزہ میرے نئے کپڑے سل کم آئے تو ایک قمیص کا گریبان نسبتاً کھلا بن گیا۔میں نے جب وہ قمیض پہنی تو آپ نے فرمایا اس کا گلا کھلا ہے۔یہ گھر میں تو پہن لو لیکن باہر نہ پہننا۔اگلے روز میں تیار ہوئی تو میں نے ایسی قمیص پہنی ہوئی تھی جس کا گلا بت اور ہائی نیک طرز پر تھا۔آپ غسل خانے میں سے باہر آئے تو یں۔DRESSING ROOM میں کھڑی تھی۔مجھ پر نظر ٹوپی تو ایک دم خوش ہو کر فرمایا :- تم نے میری بات کا خیال رکھا اور میری اس تمھیں کے گلے کو پسند فرمایا۔