حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 90 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 90

ہماری شادی پر آپ نے ہر طرح سے سادگی کا بہت خیال رکھا۔بری بھی بالکل سادہ تھی۔ایک روزہ بری کے زیور کے سیٹ کے متعلق کچھ اس قسم کا اظہار فرمایا کہ وہ ہلکا تھا ، یا شاید کم تھا۔میں نے کہا اچھا کیا جو آپ نے زیادہ زیور نہیں بھیجوایا۔اس میں میری INSULT تھی۔آپ خاموشی سے مجھے دیکھتے رہے میں نے وہ سیٹ پہنا تو فرمایا۔اچھا ہے نا ! اس کے ساتھ جو کڑا تھا وہ آپ کو بہت زیادہ پسند آیا۔پھر ایک روز مجھ سے کہنے لگے :- " خان صاحب میرے جیسے زمیندار ہیں۔اتنا زیادہ زیور تم نے کہاں سے لیا یا کیسے لیا؟ میں نے جواب دیا۔میرا یہ کنگن رجوئیں نے اس وقت پہنا ہوا تھا ، اور اسکی ساتھ کا ہار تحفہ ہے۔باقی سب زیور میرا اپنا ہے۔میں کپڑے سلوانے کے لئے ایک انگریزی رسالے میں ڈیزائن دیکھ رہی تھی رجو آپ نے مجھے خود دیا تھا، آپ پاس بیٹھے ڈاک دیکھ رہے تھے۔فرمایا : - زیادہ ننگ دھڑنگ ڈیزائن نہ دینا " " درزی نے بعض کپڑے زیادہ ہی کھلے سی دیئے۔میں نے نقص نکالتے ہوئے انہیں دکھائے تو فرمایا۔اب یہ ایسے ہی پہن لو آئندہ ہدایت دے دینا " زیادہ اُونچی ایڑی والے جوتے پسند نہ تھے۔میرے ایسے ہوتے دیکھ کہ فرمایا۔کیا تم نے اپنے جوتوں کے نیچے درختوں کے تنے کاٹ کر لگالئے ہیں ہموار ایری والے کھلی پر خر بدے تو انہیں پسند فرمایا۔اس طرح زیادہ سنگھار کرنا بھی