حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 81 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 81

LL مد صلی اللہ علیہ وسم کو جو بشار نہیں لی تھیں ان کے عروج کا زمانہ آگیا ہے اس وقت سب کچھ بھول کہ ہمیں میں ہنستے مسکراتے خدا تعالیٰ کے فضلوں کے نتیجہ میں خوشیاں ہمارے چہروں سے یوں یہ کر آ رہی ہوں جس طرح پہاڑ سے برفانی پانی کے نالے بہہ کر آرہے ہوتے ہیں۔اور آگے بڑھتے چلے جاؤ۔SITTINGS حضور نے کن حالات میں کن ضروریات کے پیش نظر عقد ثانی فرمایا ، اور اس عقد کی واقعاتی تفاصیل کو میرے علاوہ کسی اور کے لئے پوری طرح سے بیان کرنا ممکن نہ ہوگا۔اس لئے مناسب ہوگا کہ میں مختصرا اس کی تفصیل یہاں بیان کر دوں۔فروری 9ء میں حضور نے میرے بھائی کرنل ایا نہ محمود احمد خاں کو جو ان دنوں پنڈی میں قیام پذیر تھے اسلام آباد اپنے پاس بلایا اور فرمایا کہ میں نے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔اس کے لئے تمہارے ساتھ دو کروں گا۔ان ملاقاتوں میں سب سے پہلے آپ نے فرمایا کہ عیسائیت میں قربانی کا یہ تصور ہے کہ عورتیں NUNS بن جاتی ہیں۔لیکن اسلام اس سے مختلف قربانی کا تصور پیش کرتا ہے۔پھر حضور نے حضرت خدیجہ کی وفات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عائشہ صدیقہ شے سے شادی فرمانے کا ذکر فرمایا۔اس گفتگو کے دوران حضور نے حضرت مصلح موعود کی تمام شادیوں اور ان کے پس منظر میں موجود ضروریات کا ذکر کبھی فرمایا۔بعدہ حضور نے حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کی وفات کے بعد اپنے لئے شادی کی ضرورت کو بیان فرمایا۔یہ ساری باتیں تفصیلاً بیان کرنے کے بعد آپ نے میرے رشتے کے لئے اپنے منشاء کا اظہار فرمایا اور میرا اور میرے والد کا متوقع جواب کیا