حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 80 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 80

<4 قصر خلافت کے لان میں دعوت ولیمہ دی گئی۔شادی خاص طور پر انتہائی سادگی سے کی گئی۔صرف دس آدمی برات کے ساتھ آئے اور میرے والدین کو بھی صرف میرے بہن بھائیوں کو ہی شادی پر بلوانے کے لئے ارشاد فرمایا۔خطیہ نکاح میں آپ نے فرمایا : - ہر انسان جو اس جہان میں پیدا ہوتا ہے ایک دن اس جہان کو چھوڑ بھی دیا ہے۔کبھی خاوند پہلے چلا جاتا ہے اور بیوی پیچھے رہ جاتی ہے کبھی بیوی پہلے چلی جاتی ہے اور خاوند پیچھے رہ جاتا ہے جو لوگ خدا تعالیٰ کے پیار سے ہیں ان کی اس اجتماعی زندگی دیعنی میاں بیوی کی زوجین کی زندگی پر اگر نظر ڈالیں تو ہم اچھی طرح جانتے ہیں اور شناخت کرتے ہیں کہ رہنے والی نے اس مشن کو اکیلا رہتے ہوئے بھی پوری طرح ادا کیا جو ہر دو پہلے پورا کر رہے تھے۔اگر خاوند رہ جائے اکیلا ، تو چونکہ ذمہ داری کا بعض لحاظ سے خاوند پر زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔اس لئے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ایک ساتھی ہو جو ہاتھ بٹائے اور فکریوں کو دور کرنے والا اور تسکین پیدا کر نیوال اور طمانیت پیدا کرنے والا ہونا پھر سادگی کے ساتھ شادی کرنے کے ضمن میں فرمایا : - یہ وقت ہے ایک عظیم مہم کا۔اتنی ٹیری لڑائی انسانی زندگی میں تلوار سے نہیں دلائل کے ساتھ اور دعاؤں کے ساتھ نوع انسانی کی تاریخ میں کبھی نہیں لڑی گئی جتنی آج لڑی جا رہی ہے۔کیونکہ "