حضرت مرزا ناصر احمد — Page 101
96 دل تو میرا بھی چاہتا تھا لیکن میں چونکہ ابھی نئی تھی اس لئے پتہ نہیں تھا کہ کیا بات پسند ہو گی اور کیا نہیں۔اس لئے ہچکچاتی تھی۔معمولی سی تکلیف اور دکھ کا بہت زیادہ احساس فرماتے اور خیال کرتے۔ایک دفعہ رات کے وقت بیٹھے ڈاک دیکھ رہے تھے میری طبیعت تھوڑی سی خراب ہوئی۔معدے میں جلن تھی۔میں نے کوئی خاص پر واہ نہ کی۔ایسے ہی بیٹھے بیٹھے ذکر کیا تو حضور فوراً اُٹھے اور مجھے ہو میو پیتھک دوا دی۔دس دس منٹ بعد تین خوراکیں دیں۔اور چہرے پر فکر کا تاثر۔تھوڑی تھوڑی دیر بعد دریافت فرماتے کہ اب ٹھیک ہو۔میں حیران تھی۔نصف گھنٹے میں بالکل ٹھیک ہو گئی۔طبیعت میں حلیم اور نرمی بہت تھی۔کسی کو روتا ہوا انہیں دیکھ سکتے تھے مجھ سے بھی فرما تھے۔" میں تمہاری آنکھ میں آنسو نہیں دیکھ سکتا " مجھے ٹائیفائیڈ کا ٹیکہ لگوانا تھا۔کوئی خاص تکلیف والی بات تو نہ تھی لیکن آپ نے جس طرح خیال اور محبت سے خودبانہ و پکڑ کر ٹیکہ لگوایا وہ میرے لئے اس وقت باعث حیرت تھا اور اب اس کی یاد باعث فرحت ہے۔ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری مجھتی ہوں۔آپ کا اپنی ازواج سے بے پناہ پیار کرنے اور حسن سلوک فرمانے سے بعض دفعہ لوگوں کے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہو جاتا کہ آپ ان مردوں میں سے ہیں جو اپنی بیویوں کے تابع ہوتے ہیں۔لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔آپ کی باتوں سے میں نے حضرت سید ہ منصورہ بیگم صاحبہ کے متعلق بھی یہی اندازہ کیا کہ باوجود اس کے کہ آپ ان کے ساتھ انتہائی نرمی اور محبت کا سلوک فرماتے تھے لیکن وہ ہر بات میں آپ کی فرمانبردار تھیں۔