حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 100 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 100

۹۶ نے پوری کوشش کی کہ میں انہیں کوئی جواب دے سکوں سو بے اختیار بغیر سوچے منہ سے یہ فقرہ نکلا کہ " مجھے اپنا آپ اکیلا لگتا ہے ، آپ میرا یہ جواب شن کمر خاموش ہو گئے۔مجھے خریداری کے لئے کچھ رقم دی اور پھر تباہ ہو کر دفتر جانے لگے تو دروازے کے قریب میں نے آپ کو ایک منٹ کے لئے روکا اور پوچھا۔" آپ مجھ سے ناراض تو نہیں؟ فرمایا " ناراض میں تم سے کبھی نہیں ہوتا۔آپ کے دفتر جانے کے بعد میرے دل پر بہت بوجھ رہا کہ آپ کے دل کو کہیں تکلیف نہ پہنچی ہو سو دو نفل پڑھ کر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دفتر میں بیٹھے بیٹھے ہی آپ کے دل کی تکلیف کو دور فرما دے اور آپ کو زیادہ دیر تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔آپ کے واپس آنے سے قبل میں نے آپ کی خاطر آپ کا پسندیدہ رسالہ نکال کر رکھا اور اسے دیکھ رہی تھی تو آپ واپس آئے۔آپ کا چہرہ بہت بشاش تھا۔آپ میرے پاس بیٹھ کر خوش دلی سے باتیں کرتے رہے۔میں نے ان سے کہا کہ میں نے آپ کے جانے کے بعد دو نفل پڑھہ کہ اللہ میاں سے معافی مانگ لی تھی۔فرمایا۔شاباش تم بہت اچھی ہو"۔اور صبح کی بات کا آپ کے چہرے پہ مطلقاً بھی اثر نہ تھا بلکہ آپ کا رویہ معمول سے زیادہ لطف و مہربانی کا تھا۔ایک روز مجھ سے فرمایا کہ منصورہ بیگم خود مجھے دفتر کے دروانے (اندرونی) تک چھوڑنے جاتی تھیں۔اگلے روز جب آپ دفتر جانے لگے تو میں نے پوچھا کہ میں آپ کو چھوڑ آؤں ؟ فرمایا " نہیں ، لیکن نہیں کہنے کا انداز الیسا تھا کہ نہیں رہنے دو۔کیا جانا ! اس لئے میں خود ہی آپ کو چھوڑنے کے لئے ساتھ چلی گئی۔آپ کے چہرے کا اطمینان اور خوشی میں آج بھی نہیں بھلا سکتی۔چہ