حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 102 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 102

٩٨ اپنے لئے بھی میں نے یہ بات محسوس کی کہ آپ اگر چہ ہر بات محبت سے کرواتے لیکن چھوٹی سے چھوٹی بات بھی در اصل اپنے منشا کے مطابق کرواتے۔چنانچہ میں نے ایک روزہ ان سے کہا کہ "میں نے دیکھا ہے کہ آپ ہر بات اپنی منواتے ہیں “ بے ساختہ فرمایا۔وہ تو میں منواؤں گا اور حقیقت میں ہونا بھی ایسے ہی چاہیے۔محبت اور شفقت کے ساتھ مردوں کو اپنا دہ کہ دار جو خدا تعالیٰ نے انہیں عطا کیا ہے ادا کرنا چاہیئے۔آپ کو میری تربیت کا پورا احساس تھا اور فرماتے کہ مجھے ڈیڑھ دو ماہ لگیں گے تمہیں TRAIN کرنے کے لئے۔شادی کے بعد جب میں پہلی مرتبہ اپنے امی ابا سے ملنے کے لئے گئی تو آپ نے مجھ سے کہا کہ حمید (میرے بھائی جو شادی میں شمولیت کیلئے انگلستان سے آئے تھے) سے اس کے COMMENTS ) پوچھنا۔میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے میرے متعلق یہ کہا کہ " ہے تو میرا لیکن ہے بڑا کھونڈا۔حضرت صاحب کو ہم انہ کم دو ہفتے لگیں گے تمہیں اپنے ساتھ TRAIN کرنے کے لئے " آپ نے جب ان کا یہ تبصرہ سُنا تو فرمایا " نہیں ڈیڑھ دو ماہ لگیں گے۔مجھے تمہاری تربیت کرنے ہیں۔اور پھر کئی بار محفوظ ہوتے ہوئے مجھ سے فرمایا کہ حمید کو کیا پتا کہ ہیرے کی سختی ہی تو اس کی اصل خوبی ہے اور یہ کہ میں اس ہیرے کو ہزار پہلوؤں سے چپکاؤں گا تا کہ دنیا جس ANGLE سے بھی اسے دیکھے اسے اس کی چمک نظر آئے۔اس مقصد کے لئے ایک تو آپ نے یہ کیا کہ آپ روزانہ ناشتے پر اور شام کی چائے پر مجھے اپنے حالات زندگی سناتے۔قریباً ناتے۔قریباً گھنٹہ گھنٹہ۔آپ نے مختلف ادوار میں ان واقعات کو تقسیم کرتے ہوئے سنایا۔اور اس دوران بعض دفعہ آپ مجھے حضرت