حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 133 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 133

جوڑے بطور تحفہ منگوائے۔کچھ تحائف میں خود جب اپنی خریداری کرنے گئی تو یکہ آئی جب ہم واپس ربوہ آئے تو مجھ سے فرمایا کہ یہ سارے تجھے کمرے میں بچھے جو کے چوکے پر سجا دو۔اور پھر رات کے کھانے کے بعد آپ نے سب بہوؤں۔بیٹیوں۔پوتیوں نواسیوں کو بلایا کہ میرے کمرے میں آجاؤ اور سب کو باری باری موقع دیا کہ اپنی پسند کے جوڑے اپنے لئے چن لیں۔بعد میں مجھ سے کہنے لگے جب ماریہ جوڑا اٹھانے لگی تو مجھے خواہش تھی کہ وہ یہ والا جوڑا لے اور پھر میں نے توجہ کی تو اس نے وہی جوڑا اٹھایا۔حضور بچوں کے ساتھ بہت زیادہ شفقت فرماتے اور ان کی بیویوں میں ان کا بھر پور ساتھ دیتے۔ایک دن دوپہر کا کھانا کھانے کے لئے ہم کھانے کے کمرے کی طرف جارہے تھے گیلری میں سے گزرتے ہوئے بلی کے رونے جیسی آواز آئی۔آواز ہم کے کمرے میں سے آرہی تھی حضور اس کے کمرے میں تشریف لے گئے۔دیکھا تو جوتے کے ڈبے میں کتنے کا پہنچ رہا تھا۔ماہم اسے لاہور سے لائی تھی۔میں سمجھی کہ اب یہ کہیں ہم سے ناراض نہ ہوں کہ تم نے یہ کیوں یہاں پر رکھا ہوا ہے۔لیکن آپ نے اسے دیکھا کسی قسم کے غصے کا اظہارنہ فرمایا اور مسکراتے ہوئے کھانے کے کمرے کی طرف چل دیئے۔شادی کے بعد جب حضور میرے امی ابا کے گھر تشریف لائے تو میرے بہن بھائیوں کے بچوں سے بہت پیارہ فرمایا اور سب کی تصویریں باری باری اپنے دست مبارک سے لیں۔پھر جب ہم اسلام آباد گئے تو میری چھوٹی بھیجی