حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 134 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 134

í i ۱۲۸ مریم کو اپنے پاس بلایا اور اس کی تصویر اُسے دیتے ہوئے فرمایا کہ ایسی خوبصورت تصویر نہ آج تک تمہاری کسی نے کھینچی ہوگی اور نہ کھینچے گا۔فوٹو گرانی میں بھی حضور کو کمال حاصل تھا اور حسین قدرتی مناظر کو CAPTURE کرنا بہت پسند تھا۔بچے بھی قدرت کا حسین ترین شاہ کار ہیں۔مجھے یا د ہے اپنی کھینچی ہوئی تصویریں ایک روز آپ مجھے دکھا رہے تھے اس میں ایک چھوٹی سی پیاری سی غیر ملکی بچی کی بھی تصویر تھی جو کہ حیرت سے حضور کو دیکھ رہی تھی حضور نے اُس کی تصویر لے لی۔اور اس خوش قسمت بچی کا واقعہ سناتے ہوئے بھی آپ کے چہرے اور آپ کی آواز میں اس کے لئے لیے انتہا پیار تھا۔میری بھیجی قدسیہ سے بھی بہت پیار فرماتے۔اور فرماتے کہ اس کی شکل ہماری شیدا ( شمائلہ بنت صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب) سے بہت ملتی ہے۔اس لئے اسے ہمیشہ محترمہ شمائلہ بنگیم ہی کہہ کر بلاتے۔اور ایک دن جب امتی کی طرف گئے تو از راہ مذاق میرے بھائی سے فرمانے لگے کہ اسے یکیں ۴، روپے ۵۰ پیسے میں تم سے خرید لیتا ہوں۔گزشتہ سال فروری میں میری بھابھی واپس انگلینڈ جانے والی تھیں۔حضور سے ملنے گئیں تو اُن سے فرمایا کہ جانے سے پہلے بچوں کو ملوانے کے لیے لانا۔دوہ ان دنوں لاہور میں اپنے والدین کے پاس تھیں۔چنانچہ جب وہ بچوں کے ساتھ آئیں تو آپ نے انہیں اپنے ذاتی بیٹھنے والے کمرے میں ہی میگو ا لیا۔بچوں سے بہت پیار فرمایا اور ان کی چھوٹی بیٹی" نبو" سے فرمانے لگے کہ تمہیں پتہ ہے چڑیا کو کیسے پکڑتے ہیں ؟ اور پھر آپ نے اپنا جبہ اتار