حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 132 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 132

کھانا کھانے کو دل کر رہا تھا اور امی ابا نے اس کی بات نہیں مانی حضور مسکراتے ہوئے فرمانے لگے بالکل ٹھیک کیا۔مجھ سے فرمایا کہ یہ تو میری سب سے لاڈلی پوتی ہے اور پھر اگلے روز حضور نے اپنے دست مبارک سے روپے دیتے ہوئے فرما یا کہ سب بچوں کو چینی کھانا کھلا کر لاؤ۔آخری علالت کے دنوں میں سب چھوٹے بچوں کو گھر کے نچلے حصہ میں رکھا ہوا تھا۔تا کہ ان کے شور سے حضور کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ایک دن مجھے سے فرمانے لگے میری چڑیوں کو کہاں بند کر دیا ہے۔میں ان کے شور کے لئے اُداس ہو گیا ہوں ، اور پھر سب بچوں کو بلوا کر ان سے ملے اور نعمان سے کہا کہ انہیں CHOC BAR کھلاؤ اور COKE پلاؤ۔کھانے کے کمرے میں آتے جاتے وقت اکثر ہی عثمان (مرزا لقمان احمد صاحب کے بیٹے) کے کمرے میں چلے جاتے اور کچھ دیر اس سے پیار کرتے۔اس کی صحت کا ، غذا کا اور دوسرا ہر طرح سے خیال ماں باپ سے بھی زیادہ کرتے آخری دفعہ اسلام آباد میں قیام کے دوران عثمان کی طبیعت فلو سے کافی ناساز ہو گئی۔حضور نے اسے اپنے کمرے میں بلوا لیا اور اپنے بستر پر شاکر خود پاس سمجھے گئے۔ہومیو پیتھک دوائیں بھی دیں اور ساتھ ساتھ اس کے لئے دعائیں بھی کرتے۔چند منٹوں میں اس کی طبیعت بہتر ہونے لگی۔حضور نے مسرت سے میری طرف دیکھا اور فرمانے لگے دیکھو اس کی آنکھوں کی سرخی کم ہو گئی ہے۔پھر بعد میں بھی خود یاد کروا کر اس کے لئے دوائی اپنے دست مبارک سے دیتے تھے۔جب ہم پہلی بار اسلام آباد گئے تو بچے ساتھ نہ تھے۔آپ نے سب بچیوں کے لئے