حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ

by Other Authors

Page 12 of 14

حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ — Page 12

21 20 ایام تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کی وحی کے تحت اپنے باغ میں تشریف لے گئے۔آپ کے ساتھ اور بھی بہت سے احباب وہاں جا ٹھہرے۔اس وقت وہاں عمارتوں کی ضرورت تھی تو حضرت میر صاحب نے بڑی تیزی کے ساتھ وہاں مکان تعمیر کئے۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کئی دنوں تک ٹھہرے رہے۔نمیر دارالقرآن حضرت حکیم الملک خلیفہ مسیح الاول قرآن کریم کا درس عام طور پر ( بیت ) اقصیٰ میں دیا کرتے تھے۔آپ کو یہ خیال پیدا ہوا کہ ایک عمارت دارالقرآن کے نام سے تعمیر ہونی چاہیے۔جس میں قرآن کریم کا درس دیا جایا کرے۔اور مدرسہ کے کام بھی آئے۔اس کے باوجود کہ صدر انجمن احمدیہ کا محکمہ تعمیرات موجود تھا لیکن حضرت خلیفۃ اسبح الاول نے یہ کام حضرت میر صاحب کے سپرد کیا۔اور جماعتوں میں یہ اعلان کیا کہ اس غرض کے لئے کم از کم اڑھائی ہزار روپے کی ضرورت ہے جو کہ احباب جمع کر دیں اور یہ روپیہ دارالقرآن کے نام سے حضرت میر صاحب کو ارسال کیا جائے۔قدرت ثانی کے لئے دعا کا التزام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد حضرت حکیم نورالدین صاحب کو جماعت نے اپنا پہلا خلیفہ منتخب کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب رسالہ الوصیت میں تحریر فرمایا کہ جماعت کومل کر قدرت ثانیہ کے لئے دعا کرنی چاہیے۔اس بات کو مد نظر رکھ کر حضرت میر صاحب نے لمبی لمبی دعائیں کرنے کا التزام کیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے اس سلسلہ میں خاص اعلان کرنے کا ارشاد بھی فرمایا جو اخبارات نے شائع کیا۔حضرت میر ناصر نواب صاحب قادیان میں وہ پہلے بزرگ تھے جنہوں نے اجتماعی دعا کرنے کی تحریک کو عملی صورت دی۔آپ ہر روز بعد مغرب اس مقصد کے لئے لمبی دعا کیا کرتے تھے۔اور یہ سلسلہ کچھ عرصہ تک برابر جاری رہا۔حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ میں خودان دعاؤں میں شریک ہوتا تھا اور آج تک اس لطف کو محسوس کرتا ہوں۔قدرت ثانیہ کے لئے دعائیں ہوتی رہیں اور بطور عملی محرک کے حضرت میر صاحب قبلہ اس کے لیڈر تھے۔خلافت ثانیہ پیارے بچو! حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ الوصیت میں جس قدرت ثانیہ کا ذکر فرمایا ہے اس سلسلہ میں آپ نے یہ بات بھی فرمائی ہے کہ یہ قدرت ثانیہ تم میں ہمیشہ رہے گی۔اور تم اس کے لئے سب مل کر دعائیں کرو۔خدا تعالی کی یہ سنت ہے کہ جو بھی اس دنیا میں آیا اس نے بہرحال اللہ تعالیٰ کے پاس واپس لوٹ جانا ہے۔خلیفہ مسیح الاوّل بھی خلافت پر چھ سال متمکن رہنے کے بعد اپنے اللہ کے حضور حاضر ہو گئے اور آپ کی وفات حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی میں ہوئی جو کوٹھی دار السلام کے نام سے موسوم تھی اور احمد یہ کالج کے جانب شمال ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی وفات سے پہلے ہی کچھ لوگ اس نظریہ کو پھیلا رہے تھے کہ خلیفہ کی ضرورت نہیں اور صدرانجمن احمد یہ ہی کافی ہے۔گویا کہ وہ قدرت ثانیہ کی اس نعمت کو کاٹ دینا چاہتے تھے جس کے ہمیشہ رہنے کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے دیا تھا۔جماعت کے بزرگوں نے حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی وفات کے بعد سب سے پہلا کام خلیفہ کے انتخاب کا کیا جس کا انتخاب ( بیت ) نور میں ہوا۔حضرت میر صاحب نے پوری وفا کے ساتھ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی۔نہ صرف بیعت کی بلکہ غیر مبائعین کے فتنہ کو دور کرنے کے لئے آپ نے دور دراز علاقوں کے سفر بھی کئے اور تقاریر کے ذریعہ لوگوں کو سمجھایا۔حضرت سیٹھ