حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ

by Other Authors

Page 13 of 14

حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ — Page 13

23 22 عبدالرحمن مدراسی جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص ( رفقاء) میں سے ایک تھے اور با قاعده صدرانجمن احمدیہ کے ٹرسٹی بھی تھے ان کو غیر مبائعین کے فتنہ سے مطلع کرنے کے لئے حضرت میر صاحب نے مدراس کا سفر بھی کیا۔اس طرح آپ نے خلافت ثانیہ کے دوسرے مظہر کے گرد مخلصین جماعت کو جمع کرنے کی بہت کوشش کی۔صد انجمن احمدیہ کے خزانہ پر ان لوگوں کا قبضہ تھا جو خلافت کے منکر تھے۔اُن کے لاہور منتقل ہونے پر خزانہ بھی ساتھ لے گئے۔حضرت میر صاحب نے اس وقت جماعتی کاموں کو چلانے کے لئے اپنی طرف سے ایک خطیر رقم بھی حضرت خلیفہ اسیح کی خدمت میں پیش کی۔اس طرح آپ نے خلافت ثانیہ کے ساتھ بھی بڑی محبت اور وفا کا تعلق رکھا۔حضرت میر صاحب اس بات کو بخوبی سمجھتے تھے کہ اگر افراد جماعت کو ( دین حق ) کی حقیقی ہم پر چلانا ہے اور جماعتی عقائد سے واقف کروانا ہے تو اُن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ کی تحریک ہونی چاہیے۔اس لئے جہاں آپ نے اور بہت سے کام کئے وہاں آپ نے افراد جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کرنے کی تحریک فرمائی۔اس کے ساتھ ہی آپ کو کتب کی اشاعت کا بھی بہت شوق تھا۔رزق حلال کی تحریک اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ تم حلال اور طیب چیزیں کھاؤ۔آپ پیچھے پڑھ آئے ہیں کہ کس طرح حضرت میر صاحب نے ساری زندگی رزق حلال حاصل کیا۔کوئی شخص بھی آپ پر انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا۔جہاں آپ خود اس پر قائم رہے وہاں آپ نے افراد جماعت میں رزق حلال کی تحریک کی غرض سے یہ کام بھی کیا کہ قادیان میں ایک چھوٹی سی دوکان کھول لی اور یہ قادیان میں کسی احمدی کی پہلی دوکان تھی۔آپ غور کریں۔مخالفت کا دور پھر حضرت میر صاحب کا اپنا مرتبہ اور مقام پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رشتہ داری کی قربت کا معاملہ۔آپ نے ان سب باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ لوگ آپ کو کیا کہیں گے کہ اتنے بڑے خاندان کا معز شخص اور ایک چھوٹی سی دوکان کھول لی ہے، صرف اس لئے دوکان جاری کی کہ رزق حلال کی خاطر کسی قسم کی شرم کرنے کی ضرورت نہیں۔دراصل رزق حلال حاصل کرنے کی تحریک کرنا تھا۔آج کے زمانہ میں دیکھیں کتنے نوجوان فارغ گھومتے ہیں لیکن چھوٹی موٹی دوکانداری کرنا چھوٹی تجارت کرنا اپنے لئے معیوب خیال کرتے ہیں۔ہمارے نوجوانوں کو ان بزرگوں سے نصیحت حاصل کرنی چاہیے اور رزق حلال میں چھوٹی تجارت اور چھوٹی موٹی دوکانداری کو عار نہیں سمجھنا چاہیے۔اگر آج کے نوجوان ان بزرگوں کے نقش قدم پر چلیں گے تو اللہ تعالیٰ بھی ان کے اموال میں برکت دے گا۔فارغ رہنا اور گھومنا شیطان کی دوکان کے مترادف ہے۔سانحہ وفات حضرت میر صاحب کے اس قدر اوصاف ہیں کہ جس قدر بھی بیان کئے جائیں کم ہیں۔یہ دنیا تو عارضی ٹھکانا ہے۔جس کو ہر صورت میں ایک دن الوداع کہنا ہے۔حضرت میر صاحب آخری وقت میں بھی باوجود اعصابی کمزوری کے ہر وقت جماعتی کاموں میں مصروف رہتے اور ( بیت الذکر ) میں آکر نمازیں ادا کیا کرتے تھے۔آپ کے سعادتمند بیٹوں نے آپ کے ساتھ ایک آدمی مستقل طور پر رکھا ہوا تھا۔آپ جہاں بھی جاتے وہ ساتھ ساتھ رہتا۔1924ء کی بات ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی لندن تشریف لے گئے تھے۔انہیں دنوں آپ کی وفات کا سانحہ پیش آیا۔انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - حضرت خلیفہ آیح الثانی نے لندن ہی میں آپ کی نماز جنازہ غائب ادا فرمائی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس وقت لندن میں (بیت) فضل کا سنگ بنیاد رکھا تھا اور عارضی ( بیت الذکر ) ہی بنی تھی۔غالباً اس ( بیت الذکر ) میں نماز جنازہ غائب کی یہ پہلی نماز تھی۔