حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ

by Other Authors

Page 7 of 14

حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ — Page 7

11 10 آپ بیعت تو کر ہی چکے تھے اپنا سب کچھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں ڈال دیا۔اور ہمیشہ کے لئے آپ کی خدمت پر مامور ہو گئے۔آپ ہر کام کرتے اور کرواتے۔مالی بھی آپ تھے۔انجینئر بھی آپ تھے زمین کے مختار بھی آپ تھے۔بس یوں کہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے۔امانت و دیانت آنحضرت ﷺ نے ہر مسلمان کو امین اور دیانت دار ہونے کی طرف توجہ دلائی ہے۔حضرت میر صاحب میں یہ وصف نمایاں تھا اپنے تو اپنے غیر بھی آپ کی امانت و دیانت کا اعتراف کرتے تھے۔آپ جن دنوں ملازم تھے اس وقت کا ایک واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ افسران نہر نے قاعدہ کے مطابق آپ سے ایک سو روپے کی نقد ضمانت طلب کی۔آپ کے دوسرے ساتھیوں نے تو روپیہ جمع کر دیا۔لیکن آپ نے فرمایا کہ میرے پاس تو نہیں ہے اور واقعی نہ تھا حالانکہ آپ کے سپرد اوورسیئر کا کام تھا اور لوگ تو اس میں ہزاروں کما لیتے ہیں لیکن آپ حلال و حرام کو اچھی طرح سمجھتے تھے اس لئے آپ نے کبھی رشوت نہ لی اور اکل حلال آپ کا شیوہ تھا۔جب آپ نے رقم جمع کروانے سے انکار کیا اور کہا کہ میرے پاس نہیں ہے تو لوگوں نے مشورہ دیا کہ قرض لے کر ادا کر دو۔اس پر آپ نے فرمایا کہ پھر قرض کہاں سے ادا کروں گا۔ضمانت کی رقم جمع نہ کروانے کا مطلب تھا عہدہ سے علیحد گی۔آپ کو آخری نوٹس بھی دے دیا گیا۔اس پر آپ نے عزم کر لیا کہ علیحد گی منظور ہے۔جب یہ معاملہ چیف انجینئر تک پہنچا تو اس نے تمام کاغذات منگوائے اور دیکھے تو اس نے بڑی خوشی کا اظہار کیا کہ ہمارے محکمہ میں بھی ایسا امین موجود ہے۔وہ جانتا تھا کہ سب اوورسیئر ہزاروں روپیہ کماتے ہیں اور یہ شخص سوروپیہ بھی داخل نہیں کر سکتا جب کہ اسے علم ہے کہ اس رقم کے جمع نہ کروانے کا نتیجہ ملازمت سے علیحدگی ہے اور قرض بھی نہیں لیتا کہ ادا نہ کر سکوں گا تو لازماً یہ شخص امین ہے۔ان سب باتوں کو دیکھتے ہوئے اس نے آپ کو ضمانت کی رقم داخل کرنے سے مستی کر دیا۔دیکھا بچو! اللہ تعالیٰ بھی ایماندار اور صادق وامین لوگوں کی کس طرح مدد کرتا ہے۔آپ کو بھی ہمیشہ اس بات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔نیک دل اور صاف دلی آنحضرت ﷺ کا حکم ہے کہ ایک مومن اپنے دوسرے مومن بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراضگی نہ رکھے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کی طبیعت بعض معاملات میں بڑی سخت تھی لیکن اگر آپ کسی سے ناراض بھی ہو جاتے تو تین دن سے زیادہ کبھی بھی اس ناراضگی کو طول نہ دیتے۔بلکہ آگے بڑھ کر السلام علیکم کہہ کر نا راضگی دور کر لیتے۔زیادتی کرنے والے کو بھی معاف کر دیتے یہ آپ کی خاص صفت تھی جو ساری زندگی نظر آتی رہی۔ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ میاں الہ دین صاحب جن کو فلاسفر صاحب بھی کہا جاتا تھا اُن سے کسی بات پر تکرار ہوگئی اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ فلاسفر صاحب کو مار پڑی۔یہ شکایت جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس پہنچی تو آپ نے فلاسفر صاحب کے حق میں فیصلہ دیا اور فلاسفر صاحب سے معافی مانگنے کی بات کی۔اس بات کو سن کر حضرت میر صاحب سب سے پہلے فلاسفر صاحب کے پاس گئے اور معافی مانگ لی۔اس واقعہ سے آپ کی صاف دلی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔آپ اپنا سینہ ہمیشہ صاف رکھتے تھے۔سچی بات کو فوراً قبول کرتے اور مان لیتے اور سخت ناراضگی کے باوجود معاف فرما دیتے اور معافی طلب بھی کر لیتے۔اللہ تعالیٰ آپ پر ہزار ہزار رحمتیں نازل کرے۔آمین اسی سلسلہ میں حضرت یعقوب علی عرفانی کی ایک روایت ملتی ہے کہ میں جب قادیان آیا