حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ

by Other Authors

Page 8 of 14

حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ — Page 8

13 12 جوانی کا زمانہ تھا طبیعت میں تیزی بھی بہت تھی اُن دنوں میں تعلیم الاسلام سکول کا ہیڈ ماسٹر تھا اور ناناجان ( حضرت میر ناصر نواب صاحب) ناظم تھے تو کسی معاملہ میں نانا جان سے ٹھن گئی۔معاملہ یہاں تک بڑھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شکایت کرنے کے لئے کچھ بولا ہی تھا کہ حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب (خلیفہ امسیح الاول) نے مجھے ڈانٹ دیا۔اور ان کی ڈانٹ مجھے بہت پیاری تھی۔میں بیٹھ گیا۔حضور نے دریافت فرمایا تو حضرت حکیم نورالدین صاحب نے فرمایا حضور کچھ نہیں معمولی سی بات ہے میں سمجھا دوں گا اور حضرت حکیم نورالدین صاحب مجھے لے کر ایک طرف چلے گئے اور فرمانے لگے حضرت میر صاحب بہت صاف دل ہیں۔تم کو اُن کے ساتھ اس طرح نہیں کرنا چاہیے ان کی بیٹی ( حضرت اماں جان ) ہیں تم کو فوراً اُن سے معافی مانگ لینی چاہیے۔کہتے ہیں کہ ابھی ہم باتیں کر ہی رہے تھے کہ کیا دیکھا سامنے سے حضرت میر صاحب تشریف لا رہے تھے آپ نے دور سے ہی بآواز بلند السلام علیکم کہا اور آگے آکر گلے سے لگالیا۔یہ تھا آپ کا حسن سلوک اور آپ کی صاف دلی جو کہ ہمیشہ ہی آپ کے وجود میں دکھائی دیتی تھی۔غرباء سے ہمدردی اور محبت حضرت میر صاحب میں خدا تعالیٰ کے احکامات کی پابندی کا وصف اور غریبوں کے ساتھ ہمدردی اور محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عاشق اپنے عزیز وطن کو چھوڑ کر قادیان آ کر آباد ہونا چاہتے تھے۔بعض لوگ تو ایسے تھے جو اس قدر مالی وسعت رکھتے تھے کہ کرایہ پر مکان حاصل کر کے رہ سکتے تھے۔لیکن بعض اس قدر غریب تھے کہ معمولی کرایہ دینا بھی اُن کے لئے محال تھا۔ایسے غریبوں کا خیال حضرت میر صاحب کو ہمیشہ رہتا اور دل میں یہ تڑپ رہتی کہ ان غریبوں کے لئے کچھ کیا جائے۔آپ نے اس سلسلہ میں حضرت نواب محمد علی خان صاحب کو توجہ دلائی اور خواہش ظاہر کی کہ ان غریبوں کے لئے مکان بنائے جائیں۔چنانچہ حضرت نواب صاحب نے اس غرض کے لئے ایک قطعہ زمین وقف کر دیا اور حضرت خلیفہ امسیح الاول نے ان مکانوں کی بنیاد رکھی۔حضرت میر صاحب نے ان مکانوں کی تعمیر کے لئے چندہ اکٹھا کرنا شروع کیا آپ ہر ایک کے پاس جاتے اور چندہ جمع کرتے اور دل میں کسی قسم کا کوئی حجاب نہ تھا۔کیونکہ یہ کام خدا کی خاطر ہور ہا تھا۔بلکہ کہتے ہیں کہ آپ نے اپنی ایک کاپی پر یہ شعر لکھا ہوا تھا۔مانگوں نہیں پر مرر ہوں پیٹ بھرن کے کاج پر سوار تھ کے کام کو مانگتے مجھے نہ آوے لاج یعنی اپنا پیٹ بھرنے کی غرض سے مانگوں اس سے بہتر ہے کہ میں مر جاؤں لیکن دوسروں کی مدد کے لئے اور رفاہ کے لئے مانگتے مجھے کوئی شرم نہیں آتی۔آپ ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھنے کے علاوہ عظیم انسان تھے سرکاری عہدہ سے پنشن حاصل کی تھی لیکن رفاہ عامہ کے کاموں کے لئے ہر وقت کوشش کرنا اور ایک ایک در پر کھڑے ہو کر مانگنا یہ آپ کی بلند حوصلگی کی اعلیٰ مثال تھی۔آپ نے بڑی محنت اور جانفشانی سے محلہ دار الضعفاء کی تعمیر کی جسے محلہ ناصر آباد بھی کہا جاتا ہے۔یہ محلہ آپ کی جانب سے احمدیوں کے لئے ایک گراں قدر تحفہ تھا۔اور آپ کی ہمیشہ یاد کی جانے والی یادگار۔حضرت میر صاحب کا صرف یہی ایک کارنامہ نہیں ہے بلکہ آپ کے رفاہ عامہ کے کارناموں کی ایک لمبی فہرست ہے۔آپ نے ایک ہسپتال کے لئے چندہ جمع کرنا شروع کیا اس غرض کے لئے آپ نے خاکروب تک کو تحریک کی اور اُن سے چندہ لینے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی اور نور ہسپتال ہی میں آپ نے ایک وارڈ ناصر وارڈ کے نام سے تعمیر کروایا۔آپ جب لوگوں سے چندہ وصول کرتے اور کوئی آپ کو کم چندہ دیتا جو کہ اس کی استطاعت سے بہت کم ہوتا تو آپ کسی نہ کسی رنگ میں کوئی بات کر کے یا کوئی شعر سنا کر اُس کو احساس دلاتے