حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ

by Other Authors

Page 6 of 14

حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ — Page 6

9 8 مربی ومحسن مجھے کوئی نیک اور صالح داماد عطا فرما دے۔اور یہ دعا میں نے بار بار اللہ تعالیٰ کی جناب میں کی آخر قبول ہوئی اور مجھے ایسا بزرگ صالح متقی خدا کا مسیح و مہدی نبی اللہ ورسول اللہ خاتم الخلفاء اللہ تعالیٰ نے داماد عطا فرمایا۔جس پر لوگ رشک کریں تو بجا ہے اور میں اگر اس پر فخر کروں تو کچھ بے جانہ ہوگا۔“ نیز لکھتے ہیں: (حیات ناصر صفحہ 8-7) اپنی فرمانبردار بیوی کو لڑکی کے نکاح کے بارہ میں بہت سمجھا بجھا کر راضی کیا اور سوائے اپنی رفیق بیوی کے اور کسی کو اطلاع نہیں دی۔اس واسطے کہ ایسا نہ ہو کنبہ میں شور پڑ جاوے اور میرا کیا کرایا کام بگڑ جاوے اور میری والدہ صاحبہ و دیگر اقرباء مانع ہوں۔انجام کار 1885ء میں میں نے حضرت مرزا صاحب کو چپکے سے بلا بھیجا۔اور خواجہ میر درد صاحب کی مسجد میں بین العصر والمغرب اپنی دختر نیک اختر کا حضرت صاحب سے گیارہ سو روپیہ مہر کے بدلے نکاح کر دیا۔نکاح کا خطبہ مولوی نذیرحسین صاحب محدث دہلوی نے پڑھا۔وہ ڈولی میں بیٹھ کر تشریف لائے تھے۔کیونکہ ضعف اور بڑھاپے کے باعث چل پھر نہیں سکتے تھے۔“ (حیات ناصر صفحہ: 8) اس طرح حضرت میر صاحب کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خسر کا رشتہ قائم ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے یہ بات بتائی کہ تو ہی وہ مسیح و مہدی ہے جس کی پیشگوئیاں سابقہ کتب میں موجود ہیں اور لوگوں سے بیعت لینے کا حکم ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شرائط بیعت لکھ کر لوگوں کو لدھیانہ آنے اور بیعت کرنے کی دعوت دی تھی۔اس وقت حضرت میر ناصر نواب صاحب کا تقر رلدھیانہ ہی میں تھا۔یہ 1889 ء کا واقعہ ہے۔جس وقت لدھیانہ میں پہلی بیعت ہوئی اس وقت حضرت میر صاحب لدھیانہ ہی میں موجود تھے لیکن آپ نے بیعت نہ کی۔اس کے باوجود کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بڑے عقیدت مند تھے اور پھر حضور داماد بھی تھے یہ دونوں باتیں بھی آپ کو اس طرف راغب نہ کرسکیں۔کیونکہ آپ حضرت مرزا صاحب کو مسیح موعود اور مہدی تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے یا یہ کہنا چاہیے کہ اس وقت تک آپ کو اس بات کا یقین نہ تھا کہ اس طرح کوئی مسیح و مہدی ہو سکتا ہے۔بہر حال آپ نے بیعت نہ کی۔اسی زمانہ میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے لدھیانہ ہی میں ایک مباحثہ بھی ہوا جس میں حضرت میر صاحب بھی شامل تھے۔پھر آپ کا تبادلہ لدھیانہ سے پٹیالہ ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینہ کوکھولنا اور حقیقت آپ پر آشکار کرنی تھی اس غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کر دیئے کہ پہلے جلسہ سالانہ قادیان میں آپ کو شامل ہونے کی توفیق حاصل ہوئی جو کہ 1891 ء میں ہوا۔آپ قادیان تشریف لائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر حق آشکار کر دیا۔اور فوراً حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر کے آپ کی غلامی میں داخل ہو گئے۔اور پھر ساری زندگی جس وفا اور صدق سے آپ نے بسر کی وہ ہر احمدی کے لئے مشعل راہ ہے۔پنشن اور قادیان آمد حضرت میر صاحب سرکاری ملازم تھے۔آپ مختلف جگہوں سے تبدیل ہوتے ہوئے جب مردان پہنچے تو وہاں آپ کا دل نہ لگتا تھا اس پر آپ رخصت لے کر قادیان آگئے۔ابھی رخصت ختم بھی ہونے نہ پائی تھی کہ آپ کی پنشن منظور ہوگئی۔پھر کیا تھا آپ قادیان ہی کے ہوکر رہ گئے۔