حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ — Page 3
2 خاندانی پس منظر بالمقابل ایک کھنڈر سے زیاد ہ حیثیت نہیں رکھتی تھی لیکن تمام خاندان دنیا کو ترک کر کے یہاں آباد ہونے پر خوش تھا۔مغلیہ سلطنت کے چھٹے بادشاہ اور نگ زیب عالمگیر کے زمانہ میں ایک سید حضرت خواجہ محمد ناصر عندلیب نے یہاں عبادت اور ریاضت کی حد کر دی۔خاندان بخارا سے ہندوستان آیا اور پائیہ تخت دہلی میں اترا۔اس کے سر براہ خواجہ سید محمد ایک روز حالت استغراق میں آپ نے ایک کشفی نظارہ دیکھا کہ ایک خوبصورت طاہر تھے۔چونکہ آپ حضرت بہاء الدین نقشبندی کی اولاد میں سے تھے اور اورنگ نوجوان جس کے سر پر ایک جواہر نگارتاج تھا سامنے آیا اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔”اے زیب عالمگیر بھی اسی سلسلہ بیعت سے تھے اس لئے اس نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا اور محمد ناصر ابیہ کیا جبر و ستم ہے جو تو اپنے نفس پر کرتا ہے تجھے معلوم نہیں ہے کہ تو ہمارا لخت دلی میں ایک معزز مقام پر بٹھایا اور ان کے صاحبزادوں سے مغل شہزادیاں بیاہ کر اس جگر ہے اور تیرے بدن کی چوٹیں ہمارے دل پر پڑتی ہیں اور تیری تکلیف ہمارے جد خاندان کو اپنے خاندان میں شامل کر لیا۔نیز انہیں مختلف خطابات اور منصب دے کر عَلَيْهِ التَّحِيَّةُ وَالتَّنَاءُ کو تکلیف دیتی ہے۔اس لئے ہرگز ہرگز ایسا نہ کرنا۔“ (سیرۃ حضرت نصرت جہاں بیگم صاحبہ صفحہ 70،69) حکومتی امور میں بھی شامل کر لیا۔اور نواب اور خان کے خطابات دیئے۔اور نگ زیب کے انتقال کے بعد اس خاندان کی ہندوستان کے شاہی یہ نظارہ دیکھ کر آپ تھڑ گئے۔اس بزرگ نے آپ کو سینے سے لگا کر اس میں خاندان میں ایک خاندان ہی کی حیثیت تھی اور فرخ سیر اور جہاندار شاہ کی چپقلش میں نور بھر دیا۔آپ نے بے تاب ہو کر پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ تو فرمایا کہ میں حسن بن علی اس خاندان کے بزرگوں نے بھی اپنی وفاداریاں ثابت کیں۔لیکن دنیا کی اس کشمکش سے تنگ آکر ان کے ایک بزرگ حضرت خواجہ محمد بن ابوطالب ہوں اور آنحضور کے منشاء کے مطابق آیا ہوں۔پھر فرمایا :- ایک خاص نعمت تھی جو خانوادہ نبوت نے تیرے واسطے محفوظ رکھی تھی۔اس ناصر عندلیب نے اپنے تمام تر خطابات اور مناصب کو ٹھکرا کر دتی کے قریب برمدہ کے کی ابتداء تجھ پر ہوئی ہے اور انجام اسکا مہدی موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ہوگا۔ہم خوشی نالہ میں گوشہ نشینی اختیار کر لی اور عبادت اور ریاضت میں دن گزارنے لگے۔ان کے سے تجھے اجازت دیتے ہیں کہ اس نعمت سے جہان کو سیراب کر اور جو تجھ سے طالب ساتھ ان کے خاندان کے چھوٹے بڑے یہیں چلے آئے۔یہ جگہ شاہی محلات کے ہوا سکو فیض پہنچا تا یہ سلسلہ پھیلے اور یہ ساعت جو ابھی کچھ دیر باقی رہے گی۔نہایت ہی