حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 4 of 16

حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ — Page 4

4 3 مبارک ہے۔اس وقت تو جس شخص کو اپنے ہاتھ پر بیعت کرے گا اسے بقا باللہ کا مرتبہ حاصل ہوگا اور قیامت تک اس کا نام آفتاب کی طرح چمکتا رہے گا۔“ جب آپ دتی میں اپنی بارہ دری میں مقیم تھے تو محمد شاہ ہندوستان کا بادشاہ تھا۔ایک روز حضرت خواجہ صاحب کی شہرت سن کر بارہ دری میں حاضر ہوا۔اور عرض (سیرۃ حضرت نصرت جہاں بیگم صاحبہ صفحہ 71،70) کی کہ میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیے۔خواجہ میر درد نے فرمایا: خواجہ ناصر عندلیب نے حضرت حسنؓ سے اس فرقہ کا نام دریافت کیا تو انہوں نے اسکا نام ”طریقہ محمد یہ بتایا۔حضرت خواجہ ناصر عندلیب اس عظیم الشان کشف کو دیکھ کر باہر نکلے تا کہ اپنے صاحبزادے کو بیعت میں لے لیا جائے تاکہ انہیں بقا باللہ کا مرتبہ حاصل ہو جائے اور " آپ کے لائق یہی خدمت ہے کہ اب کبھی فقیر خانہ پر تشریف نہ لائیے گا کیونکہ آپ کے آنے سے فقیر کا نفس موٹا ہوتا ہے۔“ (سیرۃ حضرت نصرت جہاں بیگم صاحبہ صفحہ 113) خواجہ میر درد کے ایک صاحبزادے تھے جو چھوٹی عمر میں وفات پاگئے۔ان اپنے تیرہ سالہ صاحبزادے حضرت خواجہ میر درد کو بیعت میں لے کر یہ امانت آگے کی اولاد میں میر محمد بخش اور ایک صاحبزادی امانی بیگم تھیں۔میر محمد بخش کو ان کے ایک منتقل کر دی۔یہ خواجہ میر درد وہی مشہور شاعر ہیں جنہیں ہندوستان میں اردو ادب کی ملازم نے سوتے میں قتل کر دیا۔چونکہ میر محمد بخش کی کوئی اولاد نہ تھی۔اس لئے خلافت کے سوال پر فیصلہ ہوا کہ خلافت خواجہ میر درد کی لڑکیوں کی اولاد میں منتقل کر دی جائے۔دنیا میں ایک عظیم الشان مقام حاصل ہے۔چنانچہ اس طرح طریقہ محمدیہ کے نام سے ایک جدید طریق جاری ہوا۔ان میں امانی بیگم کی شادی خواجہ سید ناصر جان صاحب سے ہوئی تھی۔جو خود بھی اچھے حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب کے انتقال کے بعد اس طریق کے گدی نشین آپ کے شاعر تھے۔ایک دوسری صاحبزادی بی نصیرہ بیگم کی شادی سید ہاشم علی صاحب سے صاحبزادے حضرت خواجہ میر درد ہوئے۔آپ بہت عرصہ تک برمدہ کے نالہ کے ہوئی تھی جو حضرت اماں جان کے والد ماجد حضرت میر ناصر نواب صاحب کے دادا مکانات میں فروکش رہے۔مگر پھر اور نگ زیب کی بہو شہزادی مہر پرور کے اصرار پر جو تھے۔اور جن کے خاندان کا ذکر آگے آئے گا۔آپ کی بہت معتقد تھیں آپ نے دلی میں رہنا منظور فرمالیا مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہاں انہیں سادہ مکانات بنوا دئیے جائیں۔سید ہاشم علی اور صاحبزادی سیدہ بی نصیر و بیگم صاحبہ کے بطن سے سید ناصر امیر پیدا ہوئے ان کی دو بیگمات تھیں۔ان میں سے ایک زوجہ بی بی روشن آراء بیگم صاحبہ