حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 2 of 16

حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ — Page 2

اور واقعہ میں میرے آقا کا کلام ایس پاکیزہ ، ایسا پیارا، ای دلفریب اور ایسا دلربا ہے کہ کاش دنیا اسے پڑھے اور پھر اسے معلوم ہو کہ میرے بادشاہ کا منہ ایسے پھول برساتا تھا کہ جن کی خوشبو اگر ایک دفعہ کوئی سونگھ لے ، پھر اسے دنیا کی کوئی خوشبو کوئی عطر اور کوئی پھول اپنی طرف مائل نہیں کر سکتا۔اور میری ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ لوگ میرے آقا کا کلام پڑھیں اور سنیں اس لئے میں بخاری شریف کی حدیثیں لوگوں کو سناتا رہتا ہوں۔“ پیش لفظ پیارے بچو! یہ کہانی ایک ایسے خوش نصیب وجود کی ہے جنہوں نے 1890 میں جنم لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور پھر خلافت کے بابرکت سایہ میں رہنے کی توفیق پائی۔آپ کو نبی کریم ﷺ کے کلام سے عشق تھا اور آپ نے اسے اتنی لگن سے پڑھا کہ برصغیر پاک و ہند میں کوئی آپ کے پایہ کا عالم حدیث نہ ہوا۔دوسری طرف حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلفاء احمدیت سے اتنی محبت اور عقیدت کہ سیر پر جاتے ہوئے اگر چھڑی پکڑانے کا شرف بھی پایا تو اپنے آپ کو دنیا کا خوش نصیب ترین انسان سمجھا۔خود بھی بے لوث خدمات سرانجام دیں اور آنے والوں کے لئے بھی قابل تقلید نمونہ چھوڑ گئے۔اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو!