حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ — Page 6
8 7 کے یتیم رہ گیا۔“ (حیات ناصر صفحہ نمبر 2) کھلوا کر ہمارے مردوں پر بندوقوں کی ایک باڑہ ماری اور جس کو گولی نہ لگی اس کو تلوار والد صاحب کی وفات کے بعد اچانک یہ خاندان مالی مشکلات کا شکار سے قتل کیا۔یہ نہیں پوچھا کہ تم کون ہو۔ہماری طرف کے ہو یا دشمنوں کے طرفدار ہو۔ہو گیا۔اس صورت میں کفالت کا بوجھ آپ کے نانا میر شفیع احمد صاحب ساکن فراشخانہ اسی یک طرفہ لڑائی میں میرے چند عزیز را ہی ملک عدم ہو گئے۔پھر حکم ملا کہ فوراً یہاں نے اٹھایا۔آپ کے دو ماموں محکمہ نہر میں ملازم تھے۔بڑے ماموں ڈپٹی کلکٹر تھے اور سے نکل جاؤ حکم حاکم مرگ مفاجات‘ ہم سب زن و مرد دو بچہ اپنے مردوں کو بے چھوٹے ماموں مادھو پور ضلع گورداسپور میں اسی محکمہ میں ملازم تھے۔انہوں نے آڑے گور و کفن چھوڑ کر رات کے اندھیرے میں حیران و پریشان وہاں سے روانہ ہوئے لیکن یہ سبب رات کے اندھیرے اور سخت و اثرگوں کی تیرگی ( منحوس قسم کی وقت میں مدد کی۔1857ء میں جنگ آزادی کے موقع پر دتی پر جو آفت آئی۔جس سے تاریکی) کے رات بھر قطب صاحب کی لاٹ کے گرد طواف کرتے رہے۔صبح کو معلوم حضرت میر صاحب کا خاندان بھی متاثر ہوا۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کے اپنے ہوا کہ تیلی کے بیل کی طرح وہیں کے وہیں ہیں۔ایک کوس بھی سفر طے نہیں ہوا۔“ الفاظ میں تحریر کرتا ہوں: یہ عاجز بھی ہمراہ اپنے کنبہ کے دنتی دروازہ کی راہ سے باہر گیا۔چلتے وقت (حیات ناصر صفحہ 4،3) ان حالات میں بالآخر یہ خاندان بے سروسامان پانی پت پہنچا جہاں میر لوگوں نے اپنی عزیز چیزیں جن کو اٹھا سکے ہمراہ لے لیں۔میری والدہ صاحبہ نے اللہ صاحب کے ماموں محکمہ نہر میں ڈپٹی کلکٹر تھے۔یہاں اطمینان نصیب ہوا اور ان کو جنت نصیب کرے میرے والد کا قرآن شریف جواب تک میرے پاس ان کی میر صاحب کو بھی ان کے ماموں نے محکمہ نہر میں ہی بطور اوورسیئر ملازم کروا دیا۔نشانی موجود ہے، اٹھالیا۔شہر سے نکل کر ہمارا قافلہ سر بصحر ا چل نکلا اور رفتہ رفتہ قطب بعد کے حالات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سب کام خدا تعالیٰ کی خاص مشیت صاحب تک جودتی سے 11 میل پر ایک مشہور خانقاہ ہے جا پہنچا۔وہاں پہنچ کر ایک کے تحت ہورہے تھے۔میر صاحب محکمہ نہر میں ملازمت کے دوران قتلے کی نہر کی دور وز ایک حویلی میں آرام سے بیٹھے رہتے تھے کہ دنیا نے ایک اور نقشہ بدلا۔یکا یک کھدائی کے دوران قادیان میں عارضی طور پر کچھ عرصہ رہے۔جہاں سے آپ کا تعلق ہارسن صاحب افسر رسالہ معہ مختصر ار دل کے قضا کی طرح ہمارے سر پر آپہنچے اور دروازہ حضرت مسیح موعود سے قائم ہوا۔اور میر صاحب کے خاندان میں جو پیشگوئی میر ناصر