حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ — Page 5
6 5 کے بطن سے ہمارے بزرگ حضرت میر ناصر نواب صاحب اور دو صاحبزادیاں خواجہ میر درد کے گدی نشین میر ناصر امیر صاحب اچانک انتقال کر گئے اور اپنی اولاد چھوٹی عمر کی چھوڑ گئے۔میر ہاشم علی صاحب ابھی حیات تھے اور غدر کے زمانہ میں اسی پیدا ہوئیں۔ذکر ہورہا تھا خواجہ میر درد کی گدی نشینی کا۔تو امانی بیگم نے جو خاندان کی بڑی سال کے تھے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب تحریر فرماتے ہیں: تھیں فیصلہ کیا کہ گدی نشینی سید ناصر امیر صاحب کے سپرد کر دی جائے۔جو حضرت وو دادا صاحب اگر چہ موجود تھے مگر وہ اتنی سالہ ضعیف تھے اور کچھ جائیداد بھی 66 میر ناصر نواب صاحب کے والد تھے۔میر صاحب کی وفات کے بعد یہ گدی حضرت نہ رکھتے تھے اور جو جائیداد تھی وہ ہمارے خاندان سے جا چکی تھی۔“ میر ناصر نواب صاحب کے بڑے بھائی میر ناصر وزیر صاحب کے سپرد ہوئی۔لیکن خدا تعالیٰ کے ارادے کچھ اور تھے۔(حیات ناصر صفحہ نمبر 3) حضرت میر ناصر نواب غالبا 1846ء میں پیدا ہوئے۔آپ کی والدہ صاحبہ حضرت میر ناصر نواب کے والد میر ناصر امیر صاحب دہلی کے ایک اور مشہور سید ناصر امیر صاحب کی دوسری زوجہ تھیں جن کا نام روشن آراء بیگم تھا۔1857ء کے سادات خاندان کے فردسید ہاشم علی صاحب کے صاحبزادے تھے۔یہ خاندان بھی حالات آپ کو اچھی طرح یاد تھے۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت آپ کی عمر بخارا سے ہجرت کر کے ہندوستان آیا تھا او رسلسلہ نقشبندیہ کے بزرگوں کی اولاد گیارہ بارہ سال رہی ہوگی۔اپنی خود نوشت میں تحریر فرماتے ہیں: تھا۔انہیں بھی مغل بادشاہوں نے اچھے مقامات پر فائز کیا۔ان کے ایک بزرگ نواب ایک زمانہ آیا کہ میں پیدا ہوا اور دتی شہر میں جنم لیا۔خواجہ میر درد صاحب خان دوران منصور خان سلطنت مغلیہ میں نہایت اعلیٰ عہدہ پر فائز تھے۔آپ مشہور علیہ الرحمہ کے گھرانے میں پیدا ہو کر نشو ونما پایا اور ان کی بارہ دری میں کھیل کود کر بڑا جرنیل عزیز مرزا گوگلتاش کے نواسے تھے۔جن میں بڑے کا نام قمر الدین خان اور ہوا۔ان کی ( بیت ) میں پڑھا کرتا تھا۔ماں باپ کے سایہ میں پرورش پار ہا تھا۔کوئی چھوٹے اختشام علی خان تھے۔احتشام علی خان کے بیٹے میر ہاشم علی تھے۔جو غالباً فکر واندیشہ دامن گیر نہ تھا کہ ناگہاں میرے حال میں ایک تبدیلی پیدا ہوئی۔جس کا جائیداد کی دیکھ بھال ہی کرتے تھے۔کسی سرکاری منصب پر فائز نہ تھے۔یہی میر ہاشم بظاہر کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا۔اتفاقاً میرے والد ماجد کسی کام کیلئے بنارس تشریف علی صاحب حضرت میر ناصر نواب صاحب کے دادا تھے۔ان کے صاحبزادے اور لے گئے اور شاہ آباد آرہ میں ہیضہ سے ان کا انتقال ہو گیا اور میں معہ اپنی دو ہمشیرہ