حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 7 of 16

حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ — Page 7

10 9 عندلیب کے زمانہ سے چلی آتی تھی کہ ایک امانت ہے جسکی ابتداء تجھ سے ہوئی ہے اور بچے پیدا ہوئے جو بچپن میں ہی فوت ہو گئے پھر 1881ء میں حضرت ڈاکٹر میر محمد انتہا مہدی موعود علیہ السلام پر ہوگی بڑی شان سے پوری ہوئی۔اسماعیل صاحب کی پیدائش ہوئی اس کے بعد پھر پانچ بچوں کی جدائی کا صدمہ 1865ء میں حضرت میر صاحب کے ہاں شادی کے تین سال بعد حضرت برداشت کرنا پڑا اور 1890ء میں لدھیانہ میں حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کی پیدائش ہوئی۔جو حضرت اماں جان کے نام سے پیدائش ہوئی۔معروف ہیں۔حضرت میر ناصر نواب صاحب جب نہر کی کھدائی کے سلسلہ میں اس کتاب کا اصل موضوع حضرت میر محمد اسحاق صاحب کا ذکر خیر ہی ہے اس قادیان میں رہتے تھے تو آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شخصیت اور تعلق باللہ سے لئے اب میں آپ کے سوانح جو خود آپ نے رقم فرمائے درج کرتا ہوں۔حد درجہ متاثر تھے۔بعدہ جب آپ دلی تشریف لے گئے تو ان دنوں حضرت مسیح موعود ” میری پیدائش 8 ستمبر 1890ء کو بمقام لدھیانہ ہوئی جہاں حضرت والد علیہ السلام کی مشہور تصنیف " براہین احمدیہ " شائع ہوئی تھی۔جس سے ہندوستان کے صاحب مرحوم سرکاری ملازم تھے۔غالباً 1894ء کے بعد سے مستقل سکونت قادیان سمجھدار مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔حضرت میر صاحب کو بھی یہ کتاب پہنچی۔میں ہے۔قیام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں آپ کے دار میں تھا۔بچپن آپ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہلے سے جانتے تھے اور آپ کے تقویٰ کے سے اٹھارہ سال کی عمر تک حضرت مسیح موعود کے روز وشب کے حالات مشاہدہ میں معترف تھے چنانچہ انہی دنوں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور اب تک قریباً اسی طرح ذہن میں محفوظ ہیں۔گورداسپور، بٹالہ، لاہور، اپنی بیٹی کے رشتہ کے لئے دعا کی درخواست کی۔اس کے جواب میں مشیت ایزدی سیالکوٹ اور دہلی کے سفروں میں ہمرکاب ہونے کا فخر حاصل ہے۔کے تحت حضور نے اپنا پیغام بھجوادیا اور چونکہ خدا تعالیٰ کو یہی منظور تھا اس لئے اس طرح آخری بیماری کی ابتداء سے وصال تک حضرت جری اللہ فی حلل الا بنیاء کے ایک بابرکت جوڑے کی بنیاد رکھی گئی جس سے وہ نسل پیدا ہوئی تھی جس کو دنیا کی راہ پاس رہا۔حضور نے متعدد مرتبہ مجھ سے لوگوں کے خطوط کے جوابات لکھوائے۔حقیقۃ الوحی کا مسودہ مختلف جگہ سے فرماتے گئے اور میں لکھتا گیا۔روزانہ سیر میں آپ کے حضرت سید و نصرت جہاں بیگم صاحبہ کی پیدائش کے بعد میر صاحب کے پانچ ساتھ جاتا اور جانے کے اہتمام مثلاً قضاء حاجت ، وضو کا انصرام اور ہاتھ میں رکھنے کی نمائی کا کام سونپا جانا تھا۔