حضرت مولوی شیر علی ؓ — Page 4
میں مصروف تھیں جو اس وقت علم و فضل میں ایک غیر معمولی شخصیت کا مالک تھا۔اس لئے رشد وسعادت کے آثار بچپن سے ہی حضرت مولوی صاحب کی روشن پیشانی پر عیاں تھے۔آپ کی والدہ نہایت ذہین اور نیک سرشت خاتون تھیں۔خدا تعالیٰ نے ان کو اپنے خاوند حضرت مولوی نظام الدین صاحب سے پہلے احمدیت قبول کرنے کی توفیق بخشی۔چنانچہ آپ موصیبہ بھی تھیں اور صحابیہ حضرت مسیح موعود بھی تھیں۔ان کی وفات 7 مارچ 1907 ء میں ہوئی۔ان کے بچپن کے واقعات میں سے ایک واقعہ خالی از دلچپسی نہ ہوگا۔یہ اس وقت کا ذکر ہے جب کہ حضرت مولوی صاحب کے نانا جو خود بڑے عالم اور موضع للہانی ضلع سرگودہا میں خاص شہرت کے مالک تھے اور آپ کے درس القرآن کا فیض عام جاری تھا انہی کے پاس آپ کی والدہ قرآن کریم پڑھا کرتی تھیں۔ایک وفعہحضرت مولوی شیر علی صاحب کے نانا صاحب نے ان لڑکوں اور لڑکیوں سے جو ان کے پاس تعلیم پاتے تھے۔دریافت کیا کہ پچھلا سبق جو میں پڑھا چکا ہوں وہ تم میں سے کون سنا سکتا ہے۔بعض نے کچھ بتایا اور بعض بتانے سے قاصر رہے۔پھر آپ نے اپنی لڑکی ( یعنی حضرت مولوی صاحب کی والدہ) سے پوچھا کہ تم کو بھی پچھلا سبق یاد ہے؟ اس پر فوراً مولوی صاحب کی والدہ صاحبہ نے جواباً عرض کیا کہ میں قاعدہ سے پڑھ کر سناؤں یا زبانی؟ اس پر انہوں نے کہا زبانی کس طرح سنا سکتی ہو۔یہ تو بہت 4