حضرت مولوی شیر علی ؓ — Page 3
چہرہ پر مسنون تراش کی ریش۔حیا کا چلتا پھرتا مجسمہ، آواز دی مگر پکار میں اثر وسوز چال پر وقار سر پر سفید عمامہ، ان پر سادہ قمیض، ڈھیلا ڈھالا کوٹ، اور ملکی شلوار جوٹنوں سے اوپر رہتی تھی۔موسم سرما میں دو، دو میضیں بھی پہن لیتے تھے لیکن اس میں یہ خوبی تھی کہ صاف ستھرا ہوتا جس میں تکلف کی کوئی خو بو نظر نہ آتی۔پاؤں میں اکثر دیسی جوتا ہوتا جسم نہ زیادہ بھاری بھر کم اور نہ دبلا۔والدین حضرت مولوی صاحب کے والد بزرگوار اپنے گاؤں میں عالم دین کی حیثیت سے نہایت قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ان کی علمی برتری ، تقویٰ وطہارت اور صحیح دینی روح ایسے اوصاف تھے جن کے باعث ان کا نہ صرف اپنے علاقہ میں اثر ورسوخ تھا بلکہ اردگرد کے علاقوں اور قصبات میں بھی آپ کے پسندیدہ فضائل اور عالم دین ہونے کا بہت چرچا تھا۔حضرت مولوی صاحب کی والدہ ماجدہ حضرت گوہر بی بی صاحبہ خود ایک نہایت زمین اور تہجد گزار خاتون تھیں۔علوم ریا یہ میں اچھی خاصی دسترس رکھنے کے علاوہ ان کو حافظہ قرآن ہونے کی سعادت بھی نصیب تھی۔ایسے برگزیدہ والدین کی زیر نگرانی تربیت پانے والا شیر علی کیوں نہ ایک جو ہر قابل اور باخدا انسان ثابت ہوتا جب کہ ایک طرف پاکباز ماں کی گود آپ کا گہوارہ تربیت تھی جس کا سینہ قرآن پاک کا خزینہ تھا تو دوسری طرف اس فاضل باپ کی شفقت اور محبت بھری نظریں شب و روز آپ کی نگرانی 3