حضرت مولوی شیر علی ؓ — Page 5
مشکل ہے۔امتحانا انہوں نے مختلف مقامات سے سنانے کو کہا تو انہوں نے زبانی فرفر سنادیا جس سے وہ ان کی ذہانت پر حیرت زدہ ہوئے اور بہت مسرت کا اظہار کیا۔جب انہوں نے ایسا جو ہر قابل دیکھا اور قرآن ایسی نعمت کا صحیح حامل سمجھا تو انہوں نے ان کو قرآن حفظ کرا دیا۔ان کا کمال یہ تھا کہ جو ایک دفعہ پڑھ لیا وہ ذہن میں نقش ہو گیا۔دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی تھی۔༡ حضرت مولوی شیری علی صاحب نے ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد بزرگوار سے حاصل کی اس کے بعد آپ اپنے بڑے بھائی حضرت حافظ عبدالعلی صاحب کے ساتھ بھیرہ ہائی سکول میں داخل ہوئے جو ادرحمہ“ سے تیس میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔آپ نے پرائمری بھیرہ ہائی سکول میں پاس کی۔پانچویں کلاس کے دو سیکشن تھے، آپ چونکہ لائق اور قابل طالب علموں میں شمار ہوتے تھے اس لئے ہر سیکشن کے استاد کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ یہ لڑکا میرے سیکشن میں رہے۔وظیفہ کے امتحان میں حضرت مولوی صاحب کو بھی شریک ہونا تھا ممتحن کی موجودگی میں ہر دو اساتذہ کی اس بات پر تکرار ہوگئی۔ایک استاد مُصر تھا کہ یہ لڑکا میرے فریق کا ہے اور دوسرے استاد کو یہ ضد تھی کہ یہ میرے فریق میں شامل ہے۔غرض اس طرح علم کی منزلیں ذوق وشوق اور اعزاز واکرام کے ساتھ طے 5