حضرت مولوی شیر علی ؓ — Page 6
کرتے ہوئے آپ نے ۱۸۹۵ء میں انٹرنس میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور ایف سی کالج لاہور میں داخل ہوئے۔کالج میں ہر روز قریباً آدھ گھنٹہ تک انجیل کا درس ہوتا تھا جس میں کسی کو بولنے یا سوال کرنے کی اجازت نہ تھی۔بلکہ ہر ایک طالب علم کو نہایت توجہ اور سکون کے ساتھ درس سنے کی تلقین کی جاتی تھی۔اس لئے تمام طلباء کالج کے قوانین کے احترام کی خاطر اس عرصہ میں خاموش بیٹھنے پر مجبور ہوتے اور طوعا یا کرھا بہر حال اس وقت کو اس انداز میں پورا کرتے کہ کالج کے نظم وضبط میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔حضرت مولوی شیر علی صاحب ہمہ تن گوش ہو کر نہایت غور سے انجیل کے اس درس کو سنا کرتے تھے۔آپ چونکہ ذہین اور قابل طلباء میں شمار ہوتے تھے اس لئے آپ کو اپنے اساتذہ کے ساتھ سیر کرنے اور مختلف علمی مباحث پر تذکرہ کا موقع بھی ملتا۔چنانچہ ایک روز سیر کو جاتے ہوئے آپ کے ایک عیسائی پروفیسر نے تبلیغ کی غرض سے چند باتیں بیان کیں جن پر مولوی صاحب نے نہایت ٹھوس اور وقیع اعتراضات پیش کر دئیے۔یہ سن کر پروفیسر آپ کے وسعت مطالعہ اور دقت نظر سے بہت متاثر ہوا اور آپ کی قابلیت کے باعث وہ آپ کی زیادہ قدر کرنے لگا۔ان دنوں میں آپ کی صحت بہت کمزور تھی۔آپ کے بڑے بھائی حضرت حافظ عبدالعلی صاحب بیان کرتے ہیں کہ شیر علی لیٹار ہتا اور میں اس کو اس کی کتب پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔“ چنانچہ بھائی کی کوششوں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ نے باوجود کمزوری صحت کے 6