حضرت مولوی شیر علی ؓ

by Other Authors

Page 9 of 22

حضرت مولوی شیر علی ؓ — Page 9

نور فراست سے لبریز تھا۔اس عشق و محبت کی ادنیٰ جھلک حضرت مفتی صاحب کے بیان فرمودہ اس واقعہ سے بخوبی عیاں ہوتی ہے: ابتدائی ایام میں جب کہ حضرت مولوی شیر علی صاحب ہنوز لا ہور میں طالب علم تھے اور رخصتوں پر کبھی کبھی قادیان آجاتے تھے۔ایک ایسے ہی موقع پر احباب کی مجلس میں آپ نے نہایت محبت بھرے انداز میں فرمایا: معلوم نہیں حضرت صاحب مجھے پہچانتے بھی ہیں یا نہیں۔اتفاق سے اسی وقت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام بھی تشریف لے آئے تو حضرت حافظ حامد علی صاحب نے حضور سے عرض کی کہ " حضور مجھے آٹا پسوانے جانا ہے میرے ساتھ دوسرا آدمی جائے تو بہتر ہے۔“ اس پر حضور علیہ السلام نے حضرت مولوی صاحب کا بازو پکڑ کر حافظ حامد علی صاحب سے فرمایا: ” میاں شیر علی کو ساتھ لے جاؤ۔“ یہ فقرہ سن کر حضرت مولوی صاحب کی مسرت کی انتہا نہ رہی اور اس امر کا بار بار ذکر کرتے کہ حضرت صاحب مجھے پہچانتے ہیں اور میرا نام بھی جانتے ہیں۔“ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات سے آپ کو عشق اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شفقت و محبت کا نتیجہ تھا کہ جب آپ کو جج بننے کی پیشکش کی گئی تو آپ نے اس پاک جذبہ کے تحت کہ مبادا والد صاحب یہ چٹھی پڑھ کر مجھے وہاں جانے کے لئے 9