حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 9
15 14 موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خاص اہتمام فرمایا اور مولوی عبد اللہ سنوری صاحب کو اس کام کے لئے مقرر کیا کہ مذکورہ بالا مضمون کے اشتہار انگریزی، لاہور سے چھپوا کر قادیان لا ئیں۔اس خصوصی ڈیوٹی کی انجام دہی کے علاوہ براہین احمدیہ حصہ چہارم کی طباعت کی نگرانی کا کام بھی مولوی عبد اللہ سنوری صاحب نے احسن رنگ میں سرانجام دیا۔معجزات اور نشانات کے عینی شاہد حضرت عبد اللہ سنوری صاحب کو یہ عظیم الشان شرف بھی حاصل ہے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت سے معجزات اور نشانات الہیہ کے چشم دید گواہ ہیں۔میں رہ گیا اس سے قضا و قدر کی کتاب پر دستخط کئے۔خدا کی معجز نمائی کا نشان دیکھئے کہ ادھر عالم کشف میں قلم کی سُرخی چھڑ کی گئی اور ادھر یہ سرخی وجود خارجی میں منتقل ہوگئی۔منشی صاحب نے سخت حیرت زدہ ہو کر دیکھا کہ حضور کے ملنے پر سرخی کا ایک قطرہ پڑا ہے۔انہوں نے اپنی دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی اس قطرہ پر رکھی تو وہ قطرہ ٹخنے اور انگلی پر پھیل گیا۔تب اُن کے دل میں یہ آیت گزری۔صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً (البقرة: ۱۳۹) تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحه ۲۶۷) اُنہوں نے سوچا کہ جب یہ اللہ کا رنگ ہے تو اس میں خوشبو بھی ہو گی مگر اس میں خوشبو نہیں تھی۔ابھی وہ اس حیرت و استعجاب میں تھے کہ انہیں حضور کے گرتے پر ان نشانات میں منفرد ترین نشان سُرخی کے چھینٹوں کا حیرت انگیز نشان بھی سُرخی کے چند تازہ چھینٹے دکھائی دیئے۔وہ مبہوت ہو کر آہستہ سے چار پائی سے ہے۔اور یہ نشان ایسا تھا جو آپ کے ساتھ خاص تھا۔اٹھے اور انہوں نے اِن قطرات کا سراغ لگانے کے لئے چھت کا گوشہ گوشہ پوری ۱۰ جولائی ۱۸۸۵ ء بمطابق ۲۷ / رمضان المبارک ۱۳۰۲ھ کا ذکر ہے کہ بار یک نظر سے دیکھ ڈالا۔انہیں اس وقت یہ بھی خیال آیا کہ کہیں چھت پر کسی چھپکلی کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام طلوع آفتاب کے وقت حسب معمول ( بیت ) دُم کٹنے سے خون نہ گرا ہو۔مگر وہ تو دستِ قدرت کا کشفی معجزہ تھا۔خارج میں اس کا مبارک کے شرقی جانب حجرہ میں ایک چار پائی پر آرام فرما رہے تھے اور حضرت منشی کھوج کیا ملتا۔ناچار وہ چار پائی پر بیٹھ گئے اور دوبارہ پاؤں دابنے کی خدمت میں عبداللہ سنوری صاحب نیچے بیٹھے حضور کے پاؤں داب رہے تھے کہ حضرت اقدس مصروف ہو گئے۔تھوڑی دیر بعد حضور عالم کشف سے بیدار ہو کر اٹھے اور بیت مبارک نے کشفی عالم میں دیکھا کہ بعض احکام قضاء وقدر حضور نے اپنے ہاتھوں سے لکھے ہیں میں تشریف لے آئے۔کہ آئندہ زمانہ میں ایسا ہو گا اور پھر اس کو دستخط کرانے کے لئے خداوند قادر مطلق جل منشی عبد اللہ سنوری صاحب پھر داہنے لگے اُس وقت انہوں نے عرض کیا کہ شانہ کے سامنے پیش کیا اور اس نے جو ایک حاکم کی شکل میں متمثل تھا اپنے قلم کو سرخی حضور میں ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔فرمایا پوچھو! اُنہوں نے دریافت کیا کہ حضور کی دوات میں ڈبو کر اول اس سرخی کو آپ کی طرف چھڑکا اور بقیہ سرخی کا قلم کے منہ پر یہ سرخی کہاں سے گری ہے۔یہ کیا سر ہے ؟ حضور اقدس نے آپ کو کشف کی پوری