حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ

by Other Authors

Page 10 of 26

حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 10

17 16 تفصیل سنائی۔بلکہ اپنے دست مبارک سے کشف میں قلم کے جھاڑ نے اور دستخط کے عہد کے مطابق اور آپ کی اپنی وصیت کے مطابق آپ کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔کرنے کا نقشہ بھی کھینچا اور اسی طرز پر جنبش دی۔اور اُن سے کہا کہ اپنا گر نہ اور ٹوپی صرف یہی نشان ہی آپ کے سامنے ظاہر نہیں ہوا بلکہ کئی اور الہی نشانات دیکھیں کہیں ان پر بھی سرخی کا قطرہ تو نہیں گرا۔انہوں نے کر نہ دیکھا تو وہ بالکل صاف دیکھنے کی سعادت بھی آپ کے حصہ میں آئی۔تھا۔مگر ململ کی سفید ٹوپی پر ایک قطرہ موجود تھا۔منشی صاحب نے حضور سے آپ کا وہ چنانچہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چند مہمانوں کی اعجازی گر تہ تبرکاً عنایت کرنے کی درخواست کی۔حضور پہلے تو رضامند نہ ہوئے۔اور دعوت کی اور ان کے واسطے گھر میں کھانا تیار کروایا۔مگر عین کھانے کے وقت اتنے ہی فرمایا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ ہمارے بعد اس سے شرک پھیلے گا۔اور لوگ اس کو زیارت مہمان اور آگئے اور کہا جاتا ہے کہ بیت مبارک مہمانوں سے بھر گئی۔حضور نے اندر کہلا گاہ بنا کر اس کی پو جا شروع کر دیں گے۔لیکن جب منشی صاحب نے یہ عرض کرتے بھیجا کہ اور مہمان آگئے ہیں کھانا زیادہ بھجوائیں۔اس پر حضرت بیگم صاحبہ نے حضور کو ہوئے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تبرکات جن صحابہ کے پاس تھے وہ اندر بلا بھیجا اور کہا کہ کھانا تو تھوڑا ہے۔صرف ان چند مہمانوں کے مطابق پکایا گیا تھا مرتے ہوئے وصیتیں کر گئے کہ ان تبرکات کو ہمارے کفن کے ساتھ دفن کر دینا۔اصرار جن کے واسطے آپ نے کہا تھا مگر شاید باقی کھانے کا کچھ کھینچ تان کر انتظام ہو سکے گا۔لیکن زردہ تو بہت تھوڑا ہے۔اس کا کیا کیا جاوے۔میرا خیال ہے زردہ بھجواتی ہی نہیں صرف باقی کھانا نکال دیتی ہوں۔حضور نے فرمایا نہیں یہ مناسب نہیں۔تم زردہ کا کیا اور کہا کہ میں بھی مرتا ہوا ایسی وصیت کر جاؤں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ”ہاں اگر یہ عہد کرتے ہو تو لے لو۔“ برتن میرے پاس لاؤ۔چنانچہ حضور نے اس برتن پر رومال ڈھانک دیا اور پھر رومال تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحه ۲۶۸) کے نیچے اپنے ہاتھ گزار کر اپنی انگلیاں زردہ میں داخل کر دیں۔اور پھر کہا کہ اب تم سب کے واسطے کھانا نکالو خدا برکت دے گا۔چنانچہ حضور نے جمعہ کے لئے کپڑے بدلے اور یہ گر یہ منشی صاحب کے سپرد کر دیا۔حضرت عبد اللہ سنوری صاحب کہتے ہیں کہ کھانا سب کے واسطے آیا اور زردہ منشی صاحب کی یہ بات جماعت کو ہمیشہ ممنون احسان رکھے گی کیونکہ اس بھی۔زردہ سب کے کھانے کے بعد بھی کچھ بچ گیا۔طرح سے یہ گر یہ ۴۳ سال بیک منشی صاحب کے پاس رہا۔منشی صاحب ہر سال جلسہ سالانہ کے موقع پر افراد جماعت کو یہ گر نہ دکھایا کرتے۔یوں ہزاروں بلکہ لاکھوں (سیرت المہدی حصہ اول مطبوعه ۲۱ / دسمبر ۱۹۲۳ء صفحه ۱۲۹ روایت نمبر ۱۴۱) پھر ۱۹۰۰ ء کی عید الاضحیہ کے موقع پر نماز کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ آدمیوں نے اس اعجازی گرتے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔اور آپ کی وفات پر الصلوۃ والسلام نے نہایت فصیح و بلیغ عربی زبان میں جو الہا می خطبہ ارشاد فرمایا۔اُس ۷ اکتو بر ۱۹۲۷ء کو یہ گر تہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے کئے گئے آپ موقع پر بھی مولوی عبد اللہ سنوری صاحب موجود تھے۔