حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ

by Other Authors

Page 23 of 26

حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 23

43 42 صاحب فرماتے ہیں کہ یہ خدا کا ایک خاص اقتداری فعل تھا اور نہ نو گاؤں غوث گڑھ اخلاق کا ذکر حضرت مولانا ذوالفقار علی خان صاحب گوہر ناظر اعلیٰ ( قادیان) یوں سے پندرہ کوس کے فاصلے پر تھا اور درمیان میں کئی حلقے ہیں۔( سيرة المہدی حصہ اول صفحه ۱۶۱ ۱۶۲) حضرت منشی صاحب اپنی ملازمت کے دوران قریباً چالیس سال (۱۸۸۵ءتا ۱۹۲۵ء) موضع غوث گڑھ ریاست پٹیالہ میں مقیم رہے۔جماعت غوث گڑھ کو احمدیت کا نور حضرت منشی صاحب کی وساطت سے ملا۔وہاں اکثر لوگوں نے دلائل و براہین سے نہیں بلکہ منشی صاحب کی عملی زندگی اور تقویٰ وطہارت کو دیکھ کر احمدیت قبول کی۔کیونکہ خود احمدیت کے نور سے پورے طور پر منور تھے اور شمع ہدایت سے براہ راست روشنی پائی تھی اس لئے دوسروں کی فوری ہدایت کا موجب بن گئے۔یہ جماعت تعلیمی لحاظ سے بہت پیچھے تھی۔لوگ سادہ اور فطرتا نیک تھے۔استاد کامل تھا۔منشی صاحب کی وجہ سے غوث گڑھ کے اردگرد بھی جماعتیں قائم ہوئیں۔چک لوہٹ بہت بڑی جماعت تھی۔نماز با جماعت کی پابندی کی تاکید ، قرآن کریم کا درس، قادیان کی مرکزی تحریکات کو جماعت تک پہنچانا اور ان پر عمل کرانا، حضرت اقدس اور ان کی وفات کے فرماتے ہیں: تیری وہ راستی تیری دیانت تیری سچائی تیری شفقت تیرے اخلاق تیری پاک دامانی ان اوصاف حمیدہ نے مسخر کر لیا آخر انہیں جو رات دن رہتے تھے مجو شغل شیطانی جماعت غوث گڑھ کی تیرے انفاس مقدس نے بنائی اور دی تعلیم اخلاقی و روحانی رہا تو جس جگہ آنکھوں میں اور دل میں جگہ پائی دلوں پر حکمرانی کی دلوں کی کی نگہبانی (روز نامه الفضل قادیان دارالامان یکم نومبر ۱۹۲۷ء) آپ کے زہد و تقویٰ کا غیروں پر یہ اثر تھا کہ کئی مواقع پر ایسا ہوا کہ آپ اپنا چنده مرکز میں بھجواتے تو ہندو اور سکھ بھی اپنا چندہ پیش کرتے اور کہتے منشی جی ہما را چندہ بعد آپ کے خلفاء سے جماعت کے لوگوں کی ذاتی ملاقاتوں کا اہتمام کرانا ، لوگوں کو بھی قادیان بھجوا دیں۔غوث گڑھ کے رہنے والے محترم محمد یوسف صاحب سابق فسق و فجور سے محفوظ رہنے اور ان میں احمدیت کی صحیح روح پیدا کرنے کی تگ و دو کرنا، پروفیسر جامعہ احمدیہ کا بیان ہے کہ آپ کے حلقہ پٹوار کے بعض غیر احمدی لوگوں نے نو جوانوں پر خاص نظر رکھنا اور ان کی قوتوں کو سلسلہ کی تعلیمات سے ہم آہنگ کرنا۔ان سے ذاتی طور پر بیان کیا کہ ہم نے عبداللہ سنوری صاحب جیسا بزرگ انسان نہیں لوگوں کے خانگی معاملات و تنازعات کو دُور کر کے محبت اور پیار کی فضا سازگار رکھنا۔یہ دیکھا۔وہ بہت نیک پارسا بلکہ ولی اللہ تھے۔دیہات کی زندگی میں ایک دوسرے کے وہ موٹی موٹی باتیں ہیں جن کے لئے منشی صاحب ساری عمر کوشاں رہے۔آپ کی ساتھ رنجش ، عائلی مسائل اور جھگڑے اور جھمیلے عام طور پر ہو جاتے ہیں۔بات ذرا اور وفات کے بعد آپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایک مریے میں آپ کے انہی بڑھ جائے تو پولیس کا دور دورہ ہو جاتا ہے۔حضرت منشی صاحب حالات پر کڑی نظر