حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 22
41 40 حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب نے آپ کے بارے میں بجا طور پر فرمایا ہے: پیکر ایمان و عرفان مهبط نوریقین جان اخلاص و مروت نازش ارباب دیں خیر خواه دوستاں سرمایہ مہر و وفا زنده دار عهد و پیماں پاک باز و پاک ہیں روز نامه الفضل قادیان دارالامان ۲۰ دسمبر ۱۹۲۷ء) حضرت عبداللہ سنوری صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو عاشقانہ تعلق تھا اس کی وجہ سے وہ ہر دم حضور کی صحبت میں رہنا چاہتے تھے۔لیکن حضور نے ان کو دنیا کے کاروبار سے بالکل منقطع ہو کر قادیان ہی میں بیٹھے رہنے کا نہیں فرمایا۔بلکہ مختلف صورتوں میں کاروبار اور تعلقات ملازمت کو قائم رکھنے کی ہدایات فرماتے۔اور حقیقت میں یہ سلسلہ ملازمت بہت ہی مفید اور بابرکت ہو ا۔شروع میں آپ نو گاؤں میں پٹواری تھے اور تنخواہ ۵۵ روپے سالا ن تھی۔آپ آپ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہر حکم کی اطاعت نے اپنا تبادلہ تحصیل پائل میں کروالیا۔لیکن وہاں جانے کے بعد دل بالکل نہ لگا کیونکہ کیا کرتے اسی طرح آپ کو حضور کے معمولات کی اتباع کرنے کا بھی بے حد شوق وہاں کوئی ( بیت الذکر ) نہ تھی اور یہ ہندو جاٹوں کا گاؤں تھا۔آپ نے بہت بے تھا۔صوم وصلوٰۃ کے پابند اور تہجد کے عادی تھے۔نماز میں ہمیشہ صف اول میں آنے کے عادی تھے۔حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ بہت کم قراری سے حضور کی خدمت میں دعا کی درخواست کی کہ نو گاؤں میں واپس چلا جاؤں۔حضور نے فرمایا ”جلدی نہیں کرنی چاہئے اپنے وقت پر یہ خود بخود ہو جائے اتفاق ہوا ہو گا کہ وہ اس سے قاصر رہے ہوں۔آپ نہایت سادہ زندگی بسر کرتے گا۔کچھ عرصہ بعد آپ کا تبادلہ غوث گڑھ ہو گیا۔جہاں پر آپ کا اتنا دل لگا کہ نو تھے۔سادہ لباس زیب تن کرتے۔سادہ گر نہ ، شلوار، دیسی جوتا (جیسا کہ حضرت مسیح گاؤں کی خواہش دل سے نکل گئی۔اور آپ نے حضور کے فرمان کی یہ تاویل کر لی کہ موعود علیہ الصلوۃ والسلام پہنتے تھے ) اور سر پر بغیر گلہ کے پگڑی باندھتے تھے۔چونکہ غوث گڑھ مسلمانوں کا گاؤں ہے اور اس میں ( بیت ) بھی ہے اور یہاں دل بھی (روز نامه الفضل ۲۱ /اکتوبر ۱۹۲۷ء) راستبازی، معاملات میں حد درجہ صفائی اور دیانت و امانت کا بہترین نمونہ لگ گیا ہے۔اس لئے حضور کے فرمان کے یہی معنی ہوں گے جو پورے ہو گئے۔مگر تھے۔ہر ایک کے دُکھ درد میں شریک ہوتے۔آپ کے دل میں دوسروں کی ہمدردی کا کچھ عرصہ بعد نو گاؤں کا حلقہ بھی خالی ہو گیا اور تحصیلدار نے آپ کی ترقی کی سفارش بے حد جوش تھا۔خاص طور پر آپ قرابت داروں کے حقوق کا بے حد خیال رکھتے۔کرتے ہوئے لکھا کہ ترقی کی یہ صورت ہے کہ آپ کو علاوہ غوث گڑھ کے نو گاؤں کا آپ اگر چہ خلوت پسند تھے لیکن کسی سے ملتے تو ہمیشہ مسکراتے ہوئے چہرے حلقہ بھی جس کی تنخواہ ۵۵ روپے سالانہ تھی دے دیا جائے۔یہ سفارش مہاراج سے کے ساتھ ملا کرتے۔انہیں قریب سے دیکھنے والے یہ گواہی دیتے ہیں کہ کسی شخص کو منظور ہوگئی اور اس طرح آپ کے پاس غوث گڑھ اور نو گاؤں دونوں حلقے آگئے۔اس طرح ترقی بھی ملی اور تنخواہ بھی ۱۱۰ روپے سالانہ ہوگئی۔حضرت میاں عبد اللہ سنوری کبھی بھی ان سے رنج یا تکلیف نہیں پہنچی۔