حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 24
45 44 رکھتے تھے۔گاؤں کے لوگوں پر آپ کی بات کا بہت نیک اثر تھا۔جھگڑوں کی صورت ہوا جو اگرچہ بہت شدید تھا تا ہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ کے حواس درست میں فوراً حکمت و دانائی کے ساتھ معاملات طے کروا دیتے۔ایک دفعہ گاؤں کے باہر رہے لیکن بولنے کی سکت نہ رہی اور کھانے پینے میں دقت ہونے لگی۔ہر قسم کی طبی ایک تھانیدار ملا۔اس نے از راہ تفاخر حضرت منشی صاحب سے کہا کہ اپنا گاؤں تو دکھا امداد مہیا کی گئی لیکن رفتہ رفتہ کمزوری بڑھتی گئی۔مگر چہرے پر مسرت اور اطمینان کے دیں۔منشی صاحب نے فرمایا ہمارا گاؤں غریب ہے دیکھ کر کیا کرو گے۔غوث گڑھ کے آثار ہر وقت نمایاں رہتے۔جب بھی کوئی شخص عیادت کے لئے جاتا اس کی طرف محترم چوہدری عطا محمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ منشی صاحب کی زندگی میں اور بعد خندہ پیشانی سے ہاتھ بڑھا دیتے۔اس کی باتوں کو سکتے اور کبھی کبھی سر ہلا کر یا آنکھ کے میں بھی ایک عرصہ تک پولیس فوٹ گڑ نہیں آئی۔اشارے سے اس کا جواب بھی دیتے۔کسی قسم کی گھبراہٹ اور بے چینی نہ تھی۔ہر ایک نشی عبداللہ صاحب محنت کے عادی اور بیکار رہنے کے دشمن تھے۔اپنی عمر دیکھنے والا مجھے سکتا تھا کہ آپ زندہ ہی خدا تعالی کی جنت میں ہیں۔کے آخری وقت تک برابر کام کرتے رہے۔۱۹۲۵ ء میں ملازمت سے ریٹائر ہونے حضرت خلیفہ اسیح الثانی اُن دنوں شملہ تشریف لے گئے ہوئے تھے۔اور منشی کے بعد آپ مستقل طور پر قادیان ہی آگئے تھے اور یہاں آ کر بھی فارغ نہ رہے بلکہ صاحب شاید حضور کی آمد ہی کے منتظر تھے۔کوئی دو ہفتے کی بیماری میں ۷۵ اکتوبر کوکسی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے فارم کی نگرانی کی خدمت سرانجام دیتے رہے۔وو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں: مرحوم نے اس انتظام کو ایسی خوبی کے ساتھ نبھایا کہ میں اس کے تفکرات سے قریباً بالکل آزاد ہو گیا۔“ آخری ایام اور وفات (سیرت المہدی حصہ دوم صفحه (۱۰۸) قدر شدت پیدا ہوئی۔قادیان واپسی کے بعد ۶ اکتوبر کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی آپ کی عیادت کو تشریف لے گئے۔جس کے بعد اُن کا آخری وقت قریب ہونے لگا۔اور اگلے روز ۷ اکتوبر ۱۹۲۷ء کو بروز جمعہ اا بجے اپنے محبوب حقیقی سے جاملے۔انا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک کا دیا ہوا صابن کا ایک ٹکڑا، بالوں میں لگانے کے لئے تیل کی ایک چھوٹی بوتل اور عطر کی ایک چھوٹی شیشی رکھی ہوئی تھی۔اسی صابن سے غسل دینے کے حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب نے ۶۶ سال کی عمر پائی۔آپ کی صحت بالعموم اچھی رہی۔آخری عمر میں بڑھاپے کے باوجود آپ کے قومی نہایت عمدہ اور بعد یہی تیل اور عطر آپ کے بالوں وغیرہ کو لگایا گیا۔اور آپ کی وصیت کے مطابق مضبوط تھے۔البتہ سر میں رعشہ کی تکلیف کچھ عرصہ رہی۔ستمبر ۱۹۲۷ ء کے آخری ہفتے سرخی کے چھینٹوں والا اعجازی گر تہ آپ کو پہنایا گیا۔لوگ نہایت شوق اور در دو رقت میں آپ نماز فجر کی سنتیں ادا کر رہے تھے کہ آپ کے جسم کی دائیں طرف فالج کا حملہ کے ساتھ آپ کے جسد خاکی کو دیکھتے رہے جو اس کر نہ میں ملبوس عجیب شان کا حامل